زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 130
زریں ہدایات (برائے طلباء) 130 جلد سوم لئے لازمی ہے اور اگر کوئی علمی باتیں اس میں دکھائی جاتی ہیں اور کوئی دیکھنے کے لئے نہیں جاتا تو میں کہوں گا اسے زور دے کر لے جانا چاہئے۔مگر اس میں جو تصویر میں دکھائی جاتی ہیں ان میں سے بعض کو میں حرام کہوں گا، بعض کو لغو اور بعض کو ضروری قرار دوں گا۔یہ بات تم خود جانتے ہو کہ آجکل کیسی تصویریں دکھائی جاتی ہیں۔شروع شروع میں اچھی تھیں، علم ہیئت کے نظارے دکھائے جاتے تھے ، چاند اور ستاروں کی حرکات دکھائی جاتی تھیں، جاپان اور روس کی جنگ کے نقشے ہوتے تھے مگر اب معلوم ہوتا ہے حالت بہت بگڑ چکی ہے اس لئے ایسی تصویروں کا دیکھنا مناسب نہیں ہے۔پس میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ہر بات کو اس رنگ میں نہ دیکھو کہ وہ حرام ہے یا حلال۔بلکہ ہر کام کرتے وقت تم یہ دیکھو کہ تم کس حالت میں ہو اور یہ سوچو کہ تمہیں کیا کام کرنا ہے۔تمہارے کندھوں پر کتنا بوجھ اور کتنی ذمہ داری ہے۔تمہاری تعداد تھوڑی ہے، تمہارے پاس اموال نہیں، تمہیں سامان میسر نہیں، مگر تمہارا مقابلہ ساری دنیا کے ساتھ ہے جو تمہارے خلاف بڑے ساز وسامان کے ساتھ کھڑی ہے۔اور تم نے دنیا کو وہ باتیں منوائی ہیں جن کا وہ انکار کر رہی ہے۔اور نہ صرف وہی انکار کر رہی ہے بلکہ مسلمان کہلانے والے بھی انکار کر رہے ہیں۔ایسی حالت میں کیا تمہارے لیے ضروری نہیں کہ تم اپنی طاقتوں کو اس طرح خرچ کرو کہ ان کے بہتر سے بہتر نتائج پیدا ہوسکیں۔دیکھو ایک چھوٹی چیز بڑی کے مقابلہ میں پہلے ہی بے اثر ہوتی ہے اور اگر وہ بھی پھیل جائے تو اور بھی بے اثر ہو جاتی ہے۔مثلاً ہوا ہے۔بندوق میں بند کر کے اس سے جانور مار لیا جاتا ہے لیکن اتنی ہوا اگر کمرہ میں چھوڑ دی جائے تو کچھ بھی نہیں ہوگا۔مگر وہی ہوا پمپ سے جب بندوق میں یا ہوائی تو ہیں ہوتی ہیں ان میں بند کر دی جائے تو گو تھوڑی ہوتی ہے مگر اس سے بڑے بڑے کام لیے جاسکتے ہیں۔اسی طرح اگر تم اپنی طاقتوں کو جمع کر کے ان سے کام لو گے تو وہ کام دیں گی۔اور اگر ان کو ادھر اُدھر پھیلا دو گے تو کچھ نہ ہوگا۔پس بہتر کاموں میں اپنے وقت لگاؤ۔تم میں سے کئی ایسے ہوں گے جو قرآن کریم کا ترجمہ نہ جانتے ہوں گے۔کئی ایسے ہوں