زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 129
زریں ہدایات (برائے طلباء) 129 جلد سوم طرح اگر کوئی کسی کی زمین پر قبضہ کرتا ہے اور وہ اسے لٹھ مار دیتا ہے تو وہ بھی پکڑا جائے گا اور مجرم قرار پائے گا۔پس ہم مانتے ہیں کہ طبعی جذبات کے ماتحت ایک شخص چاہتا ہے کہ سینما دیکھے۔اور سینما ایک دلچسپ چیز ہے جسے میں نے بھی دیکھا ہے اور کبھی کبھی دیکھنا منع نہیں۔مگر ایک دوست نے لکھا ہے کہ بعض لڑکے ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہر فلم جو آئے اس کا دیکھنا فرض ہے۔اگر اس کو فرض سمجھا جائے تو امریکہ میں تو لاکھوں آدمی ایسے ہیں جو فلمیں ہی تیار کرتے رہتے ہیں اور وہ تمہارے لئے اس قدر فرض تیار کر دیں گے کہ مذہبی سنن اور نوافل کے ادا کرنے کا بھی تمہیں وقت نہیں ملے گا۔میں نے بتایا ہے کہ اگر کوئی کبھی کبھی سینما دیکھنے کے لئے چلا جائے یا اگر کوئی علمی فلم آئے اور اُسے دیکھ لے تو دیکھ سکتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ سینما اعلیٰ درجے کی ایک نعمت ہے مگر اس کا برے طور پر استعمال کر کے اسے نقصان رساں بنایا گیا ہے جیسے فونوگراف کے متعلق ہے سینما کے ذریعہ ایک جگہ کے نظائر دوسری جگہ کے لوگوں کو دکھائے جاسکتے ہیں جن سے وہ کئی قسم کے فوائد اور سبق حاصل کر سکتے ہیں مگر اس کو غلط طور پر استعمال کر کے خطر ناک بنا دیا گیا ہے۔شملہ میں ایک دفعہ سینما میں جنگ کی تصویریں دکھا رہے تھے۔مگر ایک دو نظارے دکھا کر پھر وہی ناچ وغیرہ شروع کر دیتے ہیں اس طرح اس کو خراب کر دیا گیا ہے گوعلمی لحاظ سے یہ بہت مفید چیز ہے اور میرا تو خیال ہے کہ چھوٹا سا منگوا کر سکول میں رکھا دیا جائے جس میں لڑکوں کو دنیا کی نمائشوں کے حالات اور دوسرے اہم واقعات اور نظارے دکھائے جائیں تو یہ ایک بہترین ایجاد ہے مگر اس کا بدترین استعمال شروع کر دیا گیا ہے۔پس میں سینما کو برا نہیں کہتا بلکہ ان باتوں کو برا کہتا ہوں جو اس میں دکھائی جاتی ہیں۔اگر یہ پوچھو کہ کیا سینما حرام ہے؟ تو میں کہوں گا حرام نہیں مگر بعض تصویر میں اس میں دکھائی جاتی ہیں ان کو میں حرام کہوں گا۔ایک دفعہ ایک دوست نے سوال کیا کہ داڑھی کا اسلام سے کیا تعلق ہے؟ میں نے اُسے جواب میں یہ نہ کہا کہ داڑھی کا یہ تعلق ہے بلکہ یہ کہا کہ مد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا اسلام سے بڑا تعلق ہے۔اس پر وہ آگے کچھ نہ کہہ سکا۔تو کئی ایسی باتیں ہیں جو اپنی ذات سے کوئی تعلق نہیں رکھتیں لیکن نسبتوں کے لحاظ سے تعلق رکھتی ہیں۔پس سینما حرام تو الگ رہا ضروریات زندگی کے