زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 128

زریں ہدایات (برائے طلباء) 128 جلد سوم تک نہ بھرے؟ اگر کوئی ایسا کرے اور اُسے روکا جائے تو کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ کہاں منع ہے جو تم روکتے ہو۔اسی طرح کیا تم پسند کرتے ہو کہ جب تم کھانا کھا رہے ہو تو تمہارا سارا منہ کھانے سے بھرا ہوا ہو اور اس پر مکھیاں بیٹھی ہوں؟ ہر گز نہیں۔مگر شریعت نے اس کو کہاں منع کیا ہے؟ پس کئی ایسی باتیں ہیں جن سے ہم بچتے ہیں مگر شریعت میں منع نہیں ہیں۔اور ہزاروں لاکھوں ایسی باتیں ہیں جن کو ہم نا پسند کرتے ہیں مگر کہیں قرآن اور حدیث میں ان کے متعلق نہیں لکھا۔پس یہ سوال ہی غلط ہے کہ فلاں چیز حرام ہے یا حلال بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ اصولاً اس میں مضر تیں ہیں یا نہیں؟ اور اسے خوبی کے لحاظ سے دیکھو پھر فیصلہ کرو۔جب ذرا ذرا باتوں کے لئے چھان بین اور تحقیقات کی جاتی ہے تو وہ باتیں جو قوم اور نسل پر اثر کرنے والی ہوں اُن پر کیوں غور نہ کیا جاوے۔کئی لوگوں نے مجھے لکھا ہے کہ سینما دیکھنے کے سب سے زیادہ شائق وہ لڑکے ہیں جو قادیان سے آتے ہیں۔ان کو اس بات پر تعجب ہو گا مگر مجھے نہیں۔چونکہ یہاں سینما ہوتا نہیں اس لئے جب یہاں کے لڑکے شہر میں جاتے ہیں تو قدرتی طور پر اس کے دیکھنے کا ان کو شوق ہوگا۔مذہبی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ ان میں زیادہ مذہبی احساس ہونا چاہئے مگر طبعی طور پر ان پر تعجب نہیں ہوسکتا۔شہروں میں رہنے والے لوگوں نے سینما دیکھا ہوتا ہے اس لئے ان کے لئے معمولی بات ہوتی ہے مگر گاؤں کے لوگ شہروں میں جا کر اسے دیکھنے کی بڑی خواہش کریں گے۔ایک دفعہ میں چھوٹی عمر میں لاہور گیا تو میں نے سنا کہ ایک کمپنی آئی ہوئی ہے اس کا تماشہ سقوں تک نے اپنی مشکیں بیچ بیچ کر دیکھا۔تو بی طبعی بات ہے۔مگران کے طبعی جذبات مذہبی جذبات کے ماتحت ہونے چاہئیں جنہیں وہ مذہبی جذبات پر حاکم بنا لیتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ گو طبعی تقاضے اور ہیں مگر ان کو قوم و مذہب اور جماعت کے فوائد کے ماتحت بنانا چاہئے۔دیکھو اگر کسی کو کوئی مارتا ہے تو اسے طبعی جذبات تو یہی کہیں گے کہ وہ بھی اسے مارے اور اگر کوئی گالی دیتا ہے تو وہ بھی اسے گالی دے۔مگر امن چاہتا ہے کہ وہ ایسا نہ کرے اور اگر معاف نہیں کر سکتا تو عدالت میں جائے۔اگر کوئی شخص کسی سے لڑنے کے لئے آتا ہے تو جب تک اپنے آپ کو بچانے کے لئے مقابلہ کرنے پر مجبور نہ ہو جائے اُس وقت تک اسے نہیں لڑنا چاہئے ورنہ وہ بھی مجرم ہو گا۔اسی