زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 127

زریں ہدایات (برائے طلباء) 127 جلد سوم ہم نے خوب پکڑا۔اگر کہے گا حرام ہے تو ہم کہیں گے یہ تو رسول کریم ﷺ کے بعد کی چیز ہے حرام کس نے کی۔اور اگر کہے گا حرام نہیں تو کہیں گے پھر دیکھنا کیوں منع ہے۔مگر میں پوچھتا ہوں کیا تم وہی باتیں نہیں کرتے جو قرآن نے حرام قرار دی ہیں اور باقی سب کچھ کر لیتے ہو۔قرآن نے تو صرف چار چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے۔شرک سے ذبح کیا ہوا جانور ، خون ،سو راور مردہ۔مگر کتا اس میں شامل نہیں۔اور اگر کسی سے اس کے متعلق پوچھو گے تو وہ یہی کہے گا کہ اس کا کھانا منع ہے۔حرام نہیں کہے گا۔اگر وہ مغز اسلام سے واقف ہوگا۔کیونکہ قرآن کریم میں انہی چار چیزوں کو حرام قرار دیا گیا ہے؟ باقی اشیاء جن کو استعمال نہیں کیا جاتا سنت کے لحاظ سے حرام ہیں لیکن شرعی طور پر نہیں۔پھر کیا کوئی کتے کا گوشت کھانے کے لئے تیار ہے؟ اسی طرح کوئی کہے کیا چوہا حرام ہے؟ سارے قرآن میں اس کو حرام نہیں کہا گیا۔لیکن اگر کوئی کہے میں لاؤں تم کھاؤ گے تو کیا تم کھا لو گے؟ تو انسان حرام چیزوں کو ہی نہیں چھوڑتا بلکہ اوروں کو بھی چھوڑتا سکھوں کی چونکہ کوئی شریعت نہیں اور وہ نہیں جانتے کہ فلاں بات کے متعلق کیا کرنا ہے اس ہے۔لئے وہ اس قسم کے سوالات کیا کرتے ہیں۔ایک تعلیم یافتہ سکھ ملتان کا جو بی۔اے اور وکیل تھا مجھ سے پوچھنے لگا آپ کے مذہب میں ختنہ کرانے کا جو حکم ہے اس کے متعلق عورتیں کیا کریں؟ میں نے اُس کی عقل کے مطابق اُسے یہ جواب دیا کہ آپ کے مذہب میں ڈاڑھی مونچھیں رکھنا فرض ہے اس کے متعلق عورتیں کیا کرتی ہیں؟ اس پر کہنے لگا مجھے سمجھ آگئی ہے۔اسلام نے اس تفصیل کے ساتھ احکام بیان کر دیئے ہیں کہ کوئی دقت پیش نہیں آتی اور نہ کسی اُلجھن میں انسان پڑ سکتا ہے بشرطیکہ اس کے دل میں کبھی نہ ہو۔شریعت ایسی ناپاک چیزوں کو جن کی ناپاکی خود انسان معلوم کر سکتا ہے چھوڑ دیتی ہے کہ فطرت آپ ان کے متعلق فیصلہ کرے اور نام ان کالے دیتی ہے جن کو فطرت نجس قرار نہیں دے سکتی اور عام طور پر یہ بتا دیتی ہے جو چیز نجس ہے اسے نہ کھاؤ۔اسی طرح اور بھی ایسی باتیں ہیں جو حرام اور منع نہیں کی گئیں مگر ان کو کر نہیں سکتے۔مثلاً قرآن کریم اور حدیث میں کیا کسی نے پڑھا ہے کہ جب کوئی کھانا کھائے تو اپنے ہاتھ کہنیوں