زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 126

زریں ہدایات (برائے طلباء) 126 جلد سوم ہو جائے گا۔اگر ایک ہندو کا ہندوانہ لباس اتروا دیا جائے اور وہ کوئی حرکت بھی نہ کرے تو سو آدمی اگر اسے دیکھیں گے تو غالبا وہ شکل ہی سے پہچان لیں گے کہ یہ ہندو ہے۔وجہ یہ ہے کہ اخلاق اور عادات سے شکلیں بدلتی رہتی اور ان پر اثر پڑتا رہتا ہے۔شکا گو کا ایک پرنسپل ہے اس کے متعلق لکھا ہے کہ اس کے طالب علمی کے زمانہ میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ بہت اعلیٰ قابلیت کا انسان ہو گا اور جب وہ امتحان میں کامیاب ہوا تو ملک میں اس کی ایسی دھاک بندھی ہوئی تھی کہ وہ ایک کالج کا پروفیسر مقرر ہو گیا۔پھر پرنسپل بن گیا مگر اس وقت وہ بالکل نالائق ثابت ہوا۔کوئی رعب داب قائم نہ رکھ سکا۔جب اس کی بہت بدنامی ہوئی تو اس نے اپنے ایک دوست سے جو علم اخلاق کا ماہر تھا مشورہ لیا کہ مجھے کیا کرنا چاہئے۔اس نے کہا تمہارے جبڑے کھلے رہتے ہیں جو بے استقلالی اور کم ہمتی کی نشانی ہے۔تم اپنے جبڑے بند رکھا کرو اور چہرہ کو سخت بناؤ۔اس نے اسی طرح کیا۔میں نے اس کا اپنا بیان پڑھا ہے وہ لکھتا ہے گو میں ایسا نہیں ہوں مگر اب میں سارے امریکہ میں سخت گیر سمجھا جاتا ہوں اور کالج کا انتظام بہت اعلیٰ درجہ کا ہو گیا ہے۔تو اس طرح ہو جاتا ہے۔اس وقت میں ان تفصیلیوں میں نہیں پڑوں گا کہ کیوں ہو جاتا ہے یہ علمی بات ہے جو بہت وقت چاہتی ہے مگر ہو جاتا ہے۔پس اگر تم اعلیٰ اخلاق اور اچھی عادات بناؤ گے تو ان کا اثر تمہارے چہروں پر ہوگا جو تم میں اور دوسروں میں امتیاز قائم کر دے گا۔پس اخلاق فاضلہ بنانا اور ان پر عمل کرنا قوم بننے کے لئے نہایت ضروری ہے اور تمہیں اس کے لئے خاص کوشش کرنی چاہئے۔اس کے بعد میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اخلاق فاضلہ کی نگرانی کی کس قدر ضرورت ہے۔یہ بات خوب اچھی طرح یاد رکھو کہ ہر بات جس سے ہم بچتے ہیں وہ حرام نہیں ہوتی بلکہ کچھ اور وجوہات ہوتی ہیں جن کے باعث بچنا پڑتا ہے۔کالج کے لڑکے عموماً اس بات کے متعلق جس سے انہیں کوئی رو کے یہ پوچھتے ہیں کیا یہ حرام ہے؟ ابھی میرے پاس شکایت پہنچی ہے کہ کالجوں کے لڑکے اور خصوصا قادیان سے جانے والے لڑکے سینما دیکھنے کے بہت شائق ہیں اور جب ان کو روکا جاتا ہے تو کہتے ہیں کیا سینما دیکھنا حرام ہے؟ وہ یہ کہ کر بڑے خوش ہوتے ہوں گے کہ