زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 122
زریں ہدایات (برائے طلباء) 122 جلد سوم جنہوں نے علم النفس پڑھا ہے اور اس کے متعلق گہری تحقیقات سے آگاہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہر انسان اپنے ارد گر د حلقہ رکھتا ہے اور جس طرح سورج کے ارد گر د شعاعوں سے گھیرا پیدا ہو جاتا ہے اسی طرح انسان کے گرد حلقہ پیدا ہو جاتا ہے۔جس کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کے اثرات کو پرے ہٹاتا ہے اور اپنے اثرات دوسرے پر ڈالتا ہے۔یہ حلقہ جس طرح افراد کا ہوتا ہے اسی طرح قو میں بھی اپنے ارد گرد حلقہ رکھتی ہیں۔اور جولوگ روحانیت میں ترقی کر جاتے ہیں اور ان کی نظریں تیز ہو جاتی ہیں ان کو یہ حلقہ نظر بھی آجاتا ہے یا خدا تعالیٰ دکھا دیتا ہے۔جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نظر آیا۔گندے اور ناپاک آدمی سے کالے رنگ کا حلقہ پیدا ہوتا ہے اور جو نیک اور پارسار ہوتے ہیں اُن سے سفید روشنی نکلتی ہے۔اور ہر انسان کی طاقت کے مطابق پھیلتی اور اثر کرتی ہے۔کسی کے گر گز بھر کا حلقہ ہوتا ہے، کسی کا اس سے زیادہ اور کسی کا اس سے بھی زیادہ۔یہ حلقے دوسروں پر اثرات ڈالتے ہیں۔ایک دفعہ ایک بہائی عورت مجھے ملنے کے لئے آئی جو ایک احمدی کی بیوی تھی۔وہ اپنے عقائد اور خیالات میں بہت جو ھیلی تھی۔میں نے اس سے گفتگو کرتے وقت محسوس کیا کہ جو حلقہ میرے جسم سے نکل رہا تھا وہ اُس کے حلقہ سے جا کر فکر اتا تھا اور وہ آگے سے انکار کر رہا تھا کہ اسے اپنے اندر داخل ہونے دے۔اس موقع پر مجھے یہ بات نمایاں طور پر محسوس ہوئی اور اُس وقت مجھے اس کے لئے خاص توجہ کرنی پڑی۔پھر اس کے حلقہ نے میرے حلقہ کو داخل ہونے کا راستہ دے دیا۔تو ہر انسان سے ایک قسم کی روشنی نکلتی ہے جو دوسرے کی روشنی پر اثر کرتی ہے۔پھر جس کی زبردست ہوتی ہے وہ دوسرے کی روشنی کے حلقہ کو پھاڑ کر اندر داخل ہو جاتی ہے۔یہی حالت قوم کی ہوتی ہے۔ماسٹر مبارک علی صاحب بی۔اے جو جرمنی میں تبلیغ کے لئے گئے ہوئے ہیں انہوں نے کئی دفعہ لکھا کہ مجھے کفر کا مسئلہ سمجھ میں نہیں آتا۔گو حضرت صاحب نے جو کچھ لکھا ہے اس پر میرا ایمان ہے اور میں اس کو مانتا ہوں مگر سمجھ میں نہیں آتا کہ سارے مسلمان کہلانے والے کافر کیونکر ہو گئے۔اگر چہ ان کا یہ خیال ہی غلط تھا اور یہ فقرہ بھی غلط ہے جو انہوں نے استعمال کیا کہ مسلمان کافر ہو گئے۔اور یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے سارے تندرست بیمار ہیں کیونکہ ہم ہر ایک مسلمان