زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 121
زریں ہدایات (برائے طلباء) 121 جلد سوم تمہاری دعوت کریں؟ پھر یہی نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے بچے بھی گھروں میں اپنے کھانے کا خرچ خود ادا کرتے ہیں۔ایک دوست نے سنایا۔ایک چھوٹی لڑکی دوکنگ میں آئی اور اپنی کچھ نقدی کہیں بھول گئی۔اس پر وہ رونے لگی اور اس کی حالت ایسی ہو گئی کہ گویا اسے ہسٹیر یا ہونے لگا ہے۔میں نے پوچھا کیا ہوا کیوں روتی ہو؟ کہنے لگی میری رقم کھوئی گئی ہے اب میں کھانا کہاں سے کھاؤں گی۔میں نے کہا اپنے گھر سے کھانا۔کہنے لگی گھر میں ہر ہفتہ میں اس قدر رقم ادا کرتی ہوں تب کھانا ملتا ہے۔تو وہاں کے اور اخلاق ہیں اور مشرقی اخلاق اور ہیں۔ہمیں اپنے اخلاق چھوڑنے نہیں چاہئیں کیونکہ یہ مشرقی اخلاق سب سے اعلیٰ ہیں۔اس کے بعد میں چند اور نصیحتیں کرتا ہوں تا کہ جو کوئی فائدہ اٹھانا چاہے اُٹھا لے۔یہ بات خوب اچھی طرح یا درکھو کہ کوئی قوم قوم نہیں بن سکتی جب تک کہ وہ اپنی عادات، اپنے اخلاق اور اپنی رسومات میں دوسروں سے ممتاز نہ ہو۔خاص اخلاق اور اپنی عادات کا اس کے گرد ایسا حلقہ ہونا چاہئے جو اس کے لئے حفاظت کی دیوار کا کام دے۔اور اس احاطہ میں رہنے والے لوگ دوسروں سے الگ تھلگ معلوم ہوں۔کیا جب ریل کے سفر میں یا کسی اور مجمع میں کوئی ہندو ملتا ہے تو تم اسے فوراً نہیں پہچان لیتے کہ یہ ہندو ہے؟ ضرور پہچان لیتے ہو۔سوائے شاذ و نادر کے۔اس کی وجہ کیا ہے؟ یہ کہ ہندوؤں کو مسلمانوں سے ایک قسم کی علیحدگی ہے۔جس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ فلاں ہندو ہے۔اسی طرح ہندو ایک مسلمان کو فوراً پہچان لیتے ہیں۔اس کی کیا وجہ ہے؟ حالانکہ وہ ہندو کبھی دہر یہ ہوتا ہے اور وہ مسلمان بھی دہر یہ ہوتا ہے۔مگر ہندو کو ایک ہندو جس کشش سے ملے گا مسلمان سے نہیں ملے گا۔اسی طرح مسلمان اس مسلمان سے جس رنگ میں ملے گا ہندو سے نہیں ملے گا۔پس یہ نہیں کہا جاسکتا کہ عقائد اور خیالات کی وجہ سے ایک ہندو ہندو کی طرف مائل ہوتا ہے اور ایک مسلمان مسلمان کی طرف۔کیونکہ ایک دہر یہ مسلمان مسلمانوں سے لگاؤ رکھتا ہے اور ایک دہر یہ ہندو ہندوؤں سے وابستہ ہوتا ہے جس طرح یہ اپنے اپنے لوگوں سے مل سکتے ہیں دوسروں سے نہیں مل سکتے۔اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی وجہ وہ عادات اور رسوم ہیں جو ہندو اور مسلمانوں میں پائی جاتی ہیں۔پس ہر قوم اپنے گرد ایک حلقہ بنالیتی ہے۔وہ لوگ