زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 116
زریں ہدایات (برائے طلباء) 116 جلد سوم یہی کہ کہا جائے اگر کوئی گالی دے تو اس کو گالی نہ دی جائے۔اور پھر گروپ کے لڑکوں کے متعلق | رپورٹ منگائی جائے کہ کون سے لڑکے ہیں جنہوں نے گالی کا جواب گالی دیا۔اگر کوئی ہو تو اس سے توبہ کرائی جائے۔اسی طرح یہ کہ ہر ایک غریب اور مسکین کو مدد دیں۔اور اس قسم کے واقعات آکر سنائیں کہ اس طرح کسی لڑکے کو مدد کرنے کا موقع ملا ہے مگر اس نے مدد نہیں کی۔مثلاً کوئی چھوٹا بچہ ہے ادھر گائے آئی ہے لڑکا پاس کھڑا تھا اسے چاہئے تھا کہ چھوٹے بچے کو پرے ہٹالیہ مگر اس نے نہ ہٹایا تو اس کی باز پرس کی جائے۔یا مثلاً کوئی برقع پوش عورت تھی جس پر جانور حملہ کرنے لگا تھا اور لڑ کا پاس کھڑا تھا مگر اسے بچانے کی کوشش کرنے کی بجائے ہنس رہا تھا تو اس کو بھی تنبیہ کی جائے۔ایسے واقعات پر سرزنش کی جائے اور آئندہ کے لئے عہد لیا جائے کہ ایسا نہ کریں گے۔اس طرح عملی طریق سے بچے اخلاق سیکھ سکتے ہیں۔ان کی مثال طوطے کی سی ہوتی ہے جو کہتا ہے میاں مٹھو پچوری کھانی ہے۔مگر نہ یہ جانتا ہے کہ میاں مٹھو کیا ہے اور نہ اسے یہ خبر ہوتی ہے کہ چوری کیا ہے بچوں کو اگر یوں کہا جائے کہ حاجت مند کی مدد کیا کرو۔تو کہیں گے ہاں کریں گے مگر انہیں یہ نہیں معلوم ہوگا کہ کیا کرتا ہے۔لیکن جب عملی طور پر انہیں سکھایا جائے گا اور ہوشیار لڑکے امداد دینے کے واقعات سنائیں گے تو دوسروں کو پتہ لگے گا کہ اس طرح مدد کرنی چاہئے۔سکاؤٹ بوائے کو اسی طرح سکھایا جاتا ہے کہ پھونس کے گھر بنا کر اور ان میں ضروری اشیاء رکھ کر آگ لگاتے ہیں اور پھر آگ کو بجھانا اور چیزوں کو بچانا سکھایا جاتا ہے۔تو سبقاً سبقاً بچوں کو یہ باتیں سکھانی چاہئیں اور گروپ میں ہی سکھائی جاسکتی ہیں الگ الگ ایسا انتظام نہیں ہو سکتا۔اسی طرح ڈوبتے کو بچانا سکھانے کے لئے بھی گروپ ضروری ہے اور بچوں کو مشق کرانی چاہئے۔اس میں دوسرے لوگ | بھی اگر دلچسپی لیں تو زیادہ مفید ہوسکتا ہے۔مگر ہمارے ملک کے اخلاق ایسے ہیں کہ اگر کوئی بڑی صلى الله عمر کا آدمی کھیل میں شامل ہو تو حیرت اور تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے حالانکہ رسول کریم ﷺ کے متعلق آتا ہے کہ آپ شامل ہو جاتے تھے۔ہاں باپ کو بھی چاہئے کہ بچوں کے اس قسم کے کاموں میں کبھی کبھی شامل ہو جایا کریں۔پھر غریبوں اور مسکینوں کی مدد کرنا سکھانا چاہئے۔اس