زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 115
زریں ہدایات (برائے طلباء) 115 جلد سوم کر رہی ہے۔مگر ہمارے ہاں اگر کسی کو کھیل میں معمولی سی چوٹ آجائے تو آئندہ کھیل کو بند کر دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔تو تیرنا بہت اچھا ہنر ہے۔ہاں اس ڈھاب کا پانی اس قدر خراب ہے کہ اس میں بچوں کا تیر نا ان کی صحت کے لئے مضر ہے۔اس کا خیال رکھا جائے اور ایسے دنوں میں انہیں تیرنا سکھا ئیں جبکہ پانی صاف ہو۔مجھے یاد ہے جب بچپن میں مجھے تیر نا نہیں آتا تھا تو دوسروں کو دیکھ کر میرے دل پر بہت برا اثر پڑتا تھا کہ کیوں نہیں آتا۔اور حضرت مسیح موعود نے ہمیں تیرنے والوں کے سپر د کر دیا کہ تیر ناسکھائیں۔تو بچوں کو تیر ناضرور سکھانا چاہئے۔اور میرا تو دل چاہتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ روپیہ دے تو گھوڑے رکھے جائیں اور ان پر سر بچوں کو سواری سکھائی جائے اور وہ پورے پورے سوار ہوں۔لیکن جب تک اتنا مال نہیں ملتا بچوں کو دوسری کھیلوں کا کھلاڑی بنانا چاہئے۔کیونکہ اچھے کھلاڑی کے اخلاق بھی اچھے ہوتے ہیں۔برخلاف اس کے جو بچے بچپن میں ان باتوں میں پڑتے ہیں جو بڑوں سے تعلق رکھتی ہیں وہ بڑے ہو کر بالکل نکمے ثابت ہوتے ہیں۔ایک شخص جواب وکالت کرتا ہے اور سلسلہ سے اس کو کوئی تعلق نہیں رہا طالب علمی کی حالت میں بڑی لمبی لمبی نمازیں پڑھتا اور نمازوں میں اتنا روتا کہ چھینیں نکل جاتیں۔مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو الہام ہوا تھا کہ مسلمانوں کا لیڈ ر 3 وہ کہتے میرا دل چاہتا کہ اسے مسجد سے اٹھا کر نیچے پھینک دوں۔یہ کیوں روتا ہے۔اس نے کون سے گناہ کئے ہیں۔اسی طرح میاں عبد السلام حضرت خلیفہ اول کے لڑکے جب دعا ہونے لگے تو رونے لگ جاتے۔حضرت مولوی صاحب روکتے اور فرماتے یہ اعصابی کمزوری ہے۔بڑا آدمی تو سمجھتا ہے کہ میری عمر کا بڑا حصہ ضائع ہو گیا ہے، مجھ سے کئی کوتاہیاں ہوئی ہیں خدا معاف کر دے اس لئے روتا ہے۔بچہ اگر اس رنگ میں روتا ہے کہ میری انگلی عمر اچھی اور اعلیٰ ہو تو یہ جائز ہے۔اور اگر اس لئے روتا ہے کہ اس کے گناہ بخشے جائیں تو وہ نقال ہے اس نے گناہ ہی کب کئے ہیں کہ بخشوا تا ہے۔ہاں اگر اس کی یہ خواہش اور | امنگ ہے کہ دین کا خادم بنوں اور اس پر اسے رونا آتا ہے تو جائز ہے۔پس بچوں کے لئے کھیلنا کودنا بہت ضروری ہے۔ہاں کھیل میں اخلاق سکھانا چاہئیں۔مثلاً