زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 113
زریں ہدایات (برائے طلباء) 113 جلد سوم جس بچہ کی آواز طوطی کی سی ہوگی وہ دنیا کے نقار خانہ میں اپنی آواز نہیں سنا سکے گا۔دیکھو کوئی نبی ایسا نہیں ہوا جس کی آواز عمدہ اور اچھی نہ ہو۔اور یہ نہایت ضروری ہے کہ انسان کی آواز بلند ہو۔مگر ان بچوں کی آواز دھیمی اور کانپتی ہوئی تھی۔میرا تو یہاں تک خیال ہے کہ رشتہ چنتے وقت ایسا رشتہ تلاش کرنا چاہئے جس کی آواز بلند ہو۔اور استادوں کو چاہئے بچوں کی آوازیں بلند کرنے کے متعلق جو کتابیں ہیں انہیں پڑھیں اور جو طریق بتائے گئے ہیں ان کو کام میں لائیں۔میرا چھوٹا بچہ منور احمد بہت آہستہ بولتا تھا۔اس کو قاری غلام یسین صاحب کے پاس قرآن کریم پڑھنے کے لئے بھیجا گیا۔ایک دن گھر میں جب اس سے سبق سننے لگے تو اس نے شور ڈال دیا اور بہت زور سے سنانے لگا۔مجھے اس پر تعجب ہوا اور میں نے وجہ پوچھی تو معلوم ہوا کہ قاری صاحب چونکہ اونچا سنتے ہیں اس لئے ان کو زور سے سنانے کی وجہ سے اونچی آواز سے پڑھنے کی عادت ہوگئی ہے۔میں گھر میں بیویوں کو پڑھاتا رہا ہوں اور اونچی آواز کرنے کے لئے اس طرح کرتا تھا کہ اپنے سے دور بٹھاتا۔تا سنانے کے لئے زور سے پڑھیں۔اسی طرح جب میں مدرسہ احمدیہ میں پڑھاتا تھا تو جولڑ کا نیچی آواز سے پڑھتا اس کو پرے بٹھا دیتا یا اپنی کرسی بہت پیچھے ہٹا لیتا اس پر اُسے مجبور ازور سے پڑھنا پڑتا۔تو اونچی آواز کرنے سے اونچی ہو جاتی ہے اس کی ضرور کوشش کرنی چاہئے۔دوسری بات یہ ہے کہ اخلاق کے متعلق جو بات مدنظر رکھنی چاہئے اور جو اعلیٰ خلق ہے اور دوسرے اخلاق پر حاوی ہے وہ دلیری اور جرات ہے۔کوشش یہ ہونی چاہئے کہ بچوں کو بہادر اور دلیر بنایا جائے۔ماسٹر صاحب نے مثال بیان کی ہے کہ ڈھاب میں نہانے سے جب بچوں کو روکا جاتا تو ان کے والد مخالفت کرتے اور کہتے یہ تیرنا جانتے ہیں یہ نہیں ڈوبیں گے۔مگر وہ دوسروں کو تو ڈبوتے جو تیر نانہیں جانتے۔میرے نزدیک اگر بچے بے احتیاطی سے ڈوبتے ہیں تو ان کو بچانا چاہئے۔لیکن اگر تیرنا سیکھتے ہوئے باوجود ممکن احتیاط کے ڈوبتے ہیں تو کیا حرج ہے۔انگریزوں میں تیرنے کے مقابلے ہوتے ہیں، کشتیاں دوڑنے کا مقابلہ کرتی ہیں اور