زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 114
زریں ہدایات (برائے طلباء) 114 جلد سوم بعض اوقات ٹوٹتی اور ڈوبتی ہیں، جانیں بھی ضائع ہوتی ہیں لیکن یہ نہیں کہ آئندہ کے لئے مقابلہ چھوڑ دیں۔پھر جاتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں۔جب تک ماں باپ یہ نہ سمجھیں کہ بچہ کا دلیری اور جرأت کا کام کرتے ہوئے مرجانا اچھا ہے بہ نسبت اس کے نکما بن کر زندہ رہنے کے اُس وقت تک اصلی جرات اور دلیری بچوں میں پیدا نہیں کی جاسکتی۔مگر بڑی خرابی یہ ہے کہ ماں باپ خود بچہ کو نکھا اور بزدل بناتے ہیں۔ذرا اندھیرا ہو تو کہتے ہیں باہر نہ جانا۔ذرا کوئی مشقت کا کام کرنے لگے تو روک دیتے ہیں۔وہ یہ چاہتے ہیں کہ بچہ چھوٹی موٹی بنا ر ہے۔اور اس طرح بچے کسی کام کے نہیں رہتے۔ماں باپ کا تو یہ کام ہونا چاہئے کہ جان بوجھ کر بچوں کو اندھیرے میں بھیجیں اور ہر طرح جرات اور دلیری۔سکھائیں۔وہ بچے جو تیر نا نہیں جانتے ان کو اکیلے پانی میں نہیں جانا چاہئے۔مگر تیرنے والے ان کو اپنے ساتھ لے جائیں اور تیرنا سکھائیں۔یہ نہایت ضروری ہنر ہے اس لئے ضرور سکھانا چاہئے اور اپنے بزرگوں کی پیروی کرنی چاہئے۔حضرت اسماعیل شہید کے متعلق لکھا ہے وہ ایک جگہ گئے اور سنا کہ ایک سکھ ہے جو بہت تیرتا ہے اور کوئی مسلمان اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔یہ سن کر انہوں نے تیر نا شروع کر دیا اور آخر اس سے بڑھ گئے۔تو ہر کام میں مومن کو دوسروں کا مقابلہ کرنا چاہئے۔بشرطیکہ وہ شریفانہ ہنر ہو۔یہ نہیں کہ کوئی مسلمان کسی ڈاکو سے بڑھ کر ہو جائے یا کسی چور سے بڑھ جائے۔بلکہ یہ کہ مثلاً کشتی لڑنا ، سواری کرنا، تیرنا وغیرہ جسمانی طاقت کے کاموں میں بڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پس احمدی بچوں میں قوت اور بہادری پیدا کرنی چاہئے۔انگریزوں میں یہاں تک احتیاط کی جاتی ہے کہ فٹ بال کھیلتے ہوئے یا کسی اور کھیل میں اگر کسی لڑکے کی ہڈی بھی ٹوٹ جائے تو بھی کھیل بند نہیں کریں گے۔اس کو کھیل کے میدان سے اٹھا کر علیحدہ لے جائیں گے اور کھیل برابر جاری رہے گی۔کیونکہ کھیل بند کرنے سے لڑکوں پر برا اثر پڑتا ہے اور ان کے دلوں میں خوف اور بزدلی پیدا ہوتی ہے۔اسی تربیت کا نتیجہ ہے کہ انگریزوں کی چھوٹی سی قوم دنیا پر حکومت