زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 112
زریں ہدایات (برائے طلباء) 112 جلد سوم کوئی شبہ نہیں رہ گیا۔اگر میں دو کے لئے نہ کہتا تو ایک خود رکھ لیتا اور ایک مجھے دے دیتا۔یہ خیال کر کے کہنے لگا کیا چار بن جائیں گی ؟ درزی نے کہاں ہاں۔اس پر تو اُسے یقین ہو گیا کہ ضرور یہ چوری کرتا ہے۔اور کہنے لگا کیا چھ بن جائیں گی ؟ درزی نے کہا ہاں چھ بن جائیں گی۔یہ سن کر اس نے سمجھا اب تو شاید اور نہ بن سکے لیکن چلو پوچھ تو لیں۔اور کہنے لگا کیا سات بن جائیں گی ؟ درزی نے کہا ہاں سات بن جائیں گی۔اس سے زیادہ کی اسے امید تو نہ تھی لیکن کہنے لگا کیا آٹھ بن جائیں گی؟ درزی نے کہا ہاں آٹھ بن جائیں گی۔اس کے بعد وہ چلا گیا۔دوسرے دن جب وہ آیا تو دیکھا کہ ذرا ذراسی آٹھ ٹوپیاں رکھی ہیں۔انہیں دیکھ کر درزی سے کہنے لگا یہ کیا؟ درزی نے کہا اپنا کپڑا ناپ لو۔تم نے اس کی آٹھ ٹوپیاں بنانے کو کہا تھا میں نے بنا دیں۔اسی طرح والدین سمجھتے ہیں کہ یہ جو مدرس بچوں کی نگرانی کرتا ہے تو اس کو ضرور کوئی فائدہ ہوتا ہوگا ہم کیوں اسے فائدہ پہنچائیں۔یہ سمجھ کر وہ اس کی مدد کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ماسٹر صاحب نے جو واقعہ سنایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے دونوں طرف سے بے استقلالی ہوئی۔ماسٹر صاحب نے بھی بے استقلالی کی اور والدین نے بھی۔اور جب تک دونوں یہ نیت نہ کرلیں کہ استقلال سے کام کریں گے اُس وقت تک کام نہیں چل سکے گا۔دونوں پورے استقلال سے کام کرنے کا وعدہ کریں اور چاہے آندھی آئے چاہے مینہ اپنی بات پر قائم رہیں۔یورپ کے متعلق میں نے کئی بار پڑھا ہے کہ کلب میں جو لوگ جاتے ہیں وہ بیس بیس سال متواتر جاتے رہے۔جب یورپ کے لوگ معمولی معمولی باتوں میں جو کھیل اور تفریح سے تعلق رکھتی ہیں اس قدر استقلال دکھاتے ہیں تو کیوں ہم ان باتوں میں استقلال نہ دکھائیں جو ہماری ترقی سے تعلق رکھتی ہیں۔اس کے بعد میں تربیت کے متعلق بعض موٹی موٹی باتیں بیان کرتا ہوں۔اول تو مجھے اس بات سے صدمہ ہوا ہے کہ جتنے بچوں نے مضمون سنائے ہیں نیچی آواز سے سنائے ہیں۔مجھے نیچی آواز سے سخت چڑ ہے اور بہت تکلیف ہوتی ہے۔میرے نزدیک بچہ کا یہ پیدائشی حق ہے کہ ماں باپ اس کی آواز اونچی بنائیں تاکہ بچہ دنیا میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنی آواز سنا سکے۔