زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 111

زریں ہدایات (برائے طلباء) 111 جلد سوم سمجھا ہے اور وہاں ایسی دکانیں اور اخباریں ہیں جو تین تین سو سال سے برابر چل رہی ہیں۔جب سے خیال آیا کہ اخبار جاری کیا جائے یا اس قسم کی دکان نکالی جائے اُسی وقت سے وہ چلی آرہی ہیں۔اسی طرح کئی مدر سے ہیں۔جب سے ان کا خیال آیا اُسی وقت سے چلے آرہے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ شروع کرنے والوں نے استقلال سے کام چلایا۔اس کا اثر اوروں پر پڑا۔انہوں نے کام کرناشروع کر دیا پھر اوروں پر۔اسی طرح کام چلتا گیا۔تو والدین کے بعد کارکن اور بچوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ استقلال سے کام کرو۔ماسٹر ( علی محمد ) صاحب نے کہا ہے کہ اس کام میں بچوں اور ان کے والدین نے مجھ سے تعاون نہیں کیا اس لئے ایک دفعہ یہ کام شروع ہو کر بند ہو گیا تھا اب پھر جاری کیا گیا ہے۔میں کہتا ہوں اگر وہ استقلال سے کام کرتے رہتے تو اس کا اثر ضرور ہوتا اور کام جاری رہتا۔انہوں نے دوبارہ کام کیوں شروع کیا؟ اسی لئے کہ ان کے دل سے پہلی ناکامی کا اثر دور ہو گیا۔انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ کوئی مدد نہیں دیتا اس لئے کام جاری نہیں رہ سکتا۔مگر پھر شروع کر دیا۔اسی کا نام ہے استقلالی ہے۔وہ پہلی باتوں کو بھول گئے اور پھر کام شروع کر دیا۔انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ استقلال سے جب تک کام نہ ہوگا اُس وقت تک کامیابی نہ ہوگی۔اسی طرح والدین ہیں۔شروع میں وہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص ہمارے بچوں کی نگرانی کرتا ہے کیوں نہ ہم اس سے مل کر کام کریں اور اسے مدد دیں۔لیکن پھر ان کی حالت ایسی ہی ہو جاتی ہے جیسے کہتے ہیں کوئی شخص دھوپ میں بیٹھا تھا۔کسی نے کہا سائے میں ہو جاؤ تو کہنے لگا کیا دو گے؟ وہ سمجھتے ہیں فلاں شخص جو ہمارے بچوں کے پیچھے پڑا ہوا ہے تو اس کو ضرور کوئی فائدہ ہی ہوتا ہوگا۔ایک مثال ہے کہتے ہیں ایک آدمی کو کسی نے بتایا کہ درزی سب چور ہوتے ہیں کپڑا چرا لیتے ہیں۔وہ ایک دن ٹوپی سلانے کے لئے درزی کے پاس کپڑا لے گیا اور جا کر پوچھا کیا اس کی ٹوپی بن جائے گی ؟ درزی نے کہا ہاں بن جائے گی۔اس نے سمجھا فی الواقعہ درزی چور ہوتے ہیں۔اس نے کچھ کپڑا خود رکھنا ہوگا تبھی کہ دیا کہ بن جائے گی۔یہ سمجھ کر کہنے لگا کیا دو بن جائیں گی ؟ درزی نے کہا ہاں دو بن جائیں گی۔اس پر تو اس نے سمجھا درزی کے چور ہونے میں