زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 107

زریں ہدایات (برائے طلباء) 107 جلد سوم مثلاً ساتو میں آٹھویں صدی کے حالات اس زمانہ کے لوگوں کو زیادہ عمدگی کے ساتھ معلوم ہیں به نسبت اُس زمانہ کے لوگوں کے۔اسی طرح جغرافیہ کا حال ہے۔پہلے سے زیادہ لوگوں کو اس کا علم ہے۔پہلے جن ملکوں کے کسی کو نام بھی معلوم نہ تھے آج ان کو سب لوگ جانتے ہیں۔مثلاً | امریکہ۔اور ہمارے تو بچے بھی امریکہ کا نام خوب جانتے ہیں کیونکہ مفتی ( محمد صادق ) صاحب | وہاں گئے ہوئے ہیں اور ان کے حالات پڑھتے سنتے رہتے ہیں۔مگر عجیب بات یہ ہے کہ جہاں ان میں بعد میں آنے والے ترقی کرتے ہیں وہاں دین کے معاملہ میں تنزل اختیار کرتے ہیں۔حساب جانتے ہیں۔اولا د اپنے باپ دادوں سے بڑھ کر ہوتی ہے۔تاریخ میں زیادہ علم رکھتی ہے۔جغرافیہ زیادہ جانتی ہے۔اسی طرح لوہار، ترکھان، سنار جو پہلے مر گئے اب ان سے بہتر کام کرنے والے موجود ہیں مگر دینی معاملات میں یہ مثال نہیں ملتی۔اس کی وجہ کیا ہے حالانکہ دین دنیا کے ہر ایک کام اور ہر ایک پیشہ سے زیادہ اہم اور ضروری ہے اور چاہئے تھا کہ اس میں زیادہ ترقی کرنے والے ہوتے۔اس کی وجہ ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ جب تاریخ دان تاریخ دانی میں فائدہ دیکھتا ہے تو کوشش کرتا ہے کہ اس کے متعلق اپنا جانشین چھوڑ جائے تا کہ یہ علم مٹ نہ جائے۔اسی طرح حساب دان جب حساب دانی میں فائدہ دیکھتا ہے تو کوشش کرتا ہے کہ اپنا قائم مقام پیدا کرے۔اسی طرح جغرافیہ والا جب اس علم کو نفع رساں پاتا ہے تو اپنے بعد اسے جاری رکھنے کے لئے اپنا قائم مقام بنانے کی کوشش کرتا ہے۔لیکن دین کے معاملہ میں لوگوں میں بہت کم خواہش ہوتی ہے کہ اپنے سے زیادہ جاننے والے پیچھے چھوڑیں۔گو کسی قدر یہ خواہش ان لوگوں میں پائی جاتی ہے جو رسمی دین کے پابند نہیں ہوتے بلکہ اس کو سمجھتے ہیں۔مگر خرابی یہ ہے کہ کسی امر کی صرف خواہش ہی کافی نہیں ہوتی بلکہ یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ اس خواہش کو پورا کرنے میں مدد دینے والے بھی ہوں۔مثلاً ایک حساب دان کی یہ خواہش ہی کافی نہیں کہ اس کے پیچھے کوئی حساب دان رہے۔اور یہ خواہش اُس وقت تک پوری نہیں ہو سکتی جب تک ایسے ماں باپ نہ ہوں جو اپنے بچوں کو اس کے سپرد کریں۔یہی حال اور باتوں کا ہے۔مگر دین کے معاملہ میں ایسا نہیں کرتے۔