زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 106
زریں ہدایات (برائے طلباء) 106 جلد سوم ,, احمدی بچوں کی تعلیم وتربیت 29 جون 1923ء کو بعد نماز مغرب محلہ دار الفضل قادیان کے بچوں کے جلسہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل خطاب فرمایا:۔یہ سوال ایسا اہم سوال ہے کہ کسی قوم کی بہتری کا دارو مدار اسی پر ہوتا ہے۔ہمیشہ جو تو میں تباہ ہوئی ہیں اسی وجہ سے ہوئی ہیں کہ پہلے لوگ مرگئے اور پچھلے ان کے قائم مقام نہ بن سکے۔اگر حضرت ابوبکر کا قائم مقام ابوبکر پیدا ہو جاتا ، اگر حضرت عمر کا قائم مقام عمر پیدا ہو جاتا، اگر حضرت عثمان کا قائم مقام عثمان پیدا ہو جاتا، اگر حضرت علیؓ کا قائم مقام علی پیدا ہو جاتا، اسی طرح طلحہ زبیر اور دوسرے صحابہ کے قائم مقام پیدا ہوتے اور پھر ان کے قائم مقام ہوتے ، پھر ان کے اور یہی سلسلہ چلتا رہتا تو آج اسلام میں یہ نا خلف مولوی کیوں پیدا ہوتے جنہوں نے حضرت مسیح موعود پر کفر کے فتوے دیئے اور آپ کے رستہ میں روکیں ڈالیں۔کیا شروع سے مسلمان ایسے ہی تھے؟ ہر گز نہیں۔ان کے پیدا ہونے کی وجہ یہی ہے کہ پہلوں کی نسلیں ان کی قائم مقام نہ پیدا ہوئیں۔پس کسی قوم میں جس قدر خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ان کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ آئندہ اولادیں ماں باپ کے نقش قدم پر نہیں چلتیں۔اور یہ عجیب بات ہے کہ ہر علم کے متعلق ہم دیکھتے ہیں کہ بعد میں آنیوالے پہلوں کی نسبت اس میں زیادہ ترقی کرتے ہیں۔مثلاً پہلے جو حساب ہوتا تھا آج اس سے بڑھا ہوا ہے۔اور آجکل کے حساب دان پہلے حساب دانوں سے بڑھے ہوئے ہیں۔اسی طرح تاریخ کا حال ہے۔اس زمانہ میں پہلے سے زیادہ عمدگی کے ساتھ تاریخیں مدون ہو چکی ہیں جو نہ صرف اس زمانہ کے حالات کی بلکہ اُس زمانہ کے حالات کی بھی جس میں وہ واقعات ہوئے۔اس وقت اُس زمانہ کے حالات اس سے زیادہ اچھی طرح لکھے گئے جیسے کہ پہلے زمانہ میں لکھے گئے تھے۔