زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 99

زریں ہدایات (برائے طلباء) 99 جلد سوم غفلت کو بھی اسی طرح دور کر دے جس قدر کہ دوسری غفلتوں کو دور کرنے میں وہ کامیاب ہو چکی ہے۔مدرسہ احمدیہ تمہاری عملی جدوجہد کا نقطہ مرکزی ہے اور اسی کی کامیابی پر اس امر کا فیصلہ ٹھہرا ہے کہ آئندہ سلسلہ کی تبلیغ جاری رکھی جاسکے گی یا نہیں؟ آپ لوگوں میں سے بہت یہ خیال کرتے ہیں کہ انگریزی تعلیم کے ساتھ سلسلے کی کتب پڑھنے سے ہم اس غرض کو پورا کر سکتے ہیں جو اس سلسلے کے نظام علمی کے درست رکھنے کیلئے ضروری ہے لیکن اس سے بڑھ کر اور کوئی غلطی نہیں ہو سکتی۔بیشک حضرت مسیح موعود کی کتب کا اکثر حصہ اردو میں ہے لیکن کیا جس زبان کو انسان سمجھ سکتا ہو اس میں لکھی ہوئی کتاب کو بھی ضرور سمجھ سکتا ہے۔اگر یہ بات ہوتی تو سب سے زیادہ قرآن کریم کو سمجھنے والے اہل عرب ہوتے۔بیشک بغیر کسی زبان کے سمجھنے کے اس میں لکھی ہوئی کتاب کو انسان نہیں سمجھ سکتا لیکن کتاب کے سمجھنے کیلئے صرف یہی ضروری نہیں اس کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ استاد کے ذریعہ سے اس کی رموز اور باریکیوں کو حاصل کرے۔پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت صاحب نے قرآن اور احادیث کے علوم کے متعلق اصول بیان کئے ہیں ان کی مکمل تغیر نہیں لکھی اور جب تک کوئی شخص ان اصول کے ماتحت قرآن کریم اور احادیث کی کتب نہ پڑھے وہ ان اصول سے فائدہ حاصل نہیں کر سکتا اور اس کیلئے علاوہ استاد کی مدد کے عربی زبان کے وسیع علم کی ضرورت ہے۔یہی حال علم تصوف علم فقہ اور علم اخلاق کا ہے۔پس بغیر عربی زبان کے وسیع علم کے اور بغیر ان علوم کی کتب کے بالاستیعاب مطالعہ کے جو حضرت مسیح موعود کے بنائے ہوئے اصول کی روشنی میں ہو یہ بات حاصل نہیں ہوسکتی۔پس جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ عربی زبان کی محمد بد حاصل | کر کے اور اپنے طور پر تھوڑا سا مطالعہ کر کے خدمت دین حقیقی معنوں میں کر سکتے ہیں وہ ایسے ہی دھوکا خوردہ ہیں جیسا کہ وہ شخص جو ایک ہلدی کی ایک گھٹی لے کر پنساری بن بیٹھا تھا۔یہ ممکن ہے کہ بعض مسائل کو یاد کر سکے، کوئی شخص عوام میں سے بعض کو ان مسائل سے واقف کر سکے لیکن علوم دینیہ کا ماہر نہیں ہو سکتا اور نہ ان کا محافظ کہلا سکتا ہے۔یہ ایک