زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 362

زرّیں ہدایات (جلد سوم برائے طلباء۔1916ء تا 1931ء) — Page 98

زریں ہدایات (برائے طلباء) 98 جلد سوم دنیا کے لئے ایک ہی راہنما ہو گا باریک بین نظر کیلئے ایسے سبق اور سامانِ اطمینان پیدا ہیں کہ وہ ان سے واقف ہونے کے بعد پرانے علوم کی طرف ( جو رسول کریم ﷺ کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں لیکن آپ ﷺ سے اسی قدر دور ہیں جس قدر نور سے ظلمت ) لوٹنا ایک موت بلکہ موت سے بدتر اور روح اور ضمیر کیلئے ایک گھناؤنا اور قابل نفرت فعل خیال کرتا ہے۔پس اس قدر تغیرات عظیمہ کے برقرار رکھنے اور ان کے اثرات کو دوسروں تک پہنچانے کیلئے جب تک ایسے آدمی نہ ہوں جو اپنے پورے اوقات کو صرف کر کے اس امانت کی حفاظت کریں لمبا عرصہ تو الگ رہا ہم یہ بھی امید نہیں کر سکتے کہ دو تین نسلوں تک یه علوم محفوظ رہ سکیں۔پس اگر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے اور جیسا کہ میں نے ابھی تحریر کیا ہے حضرت مسیح موعود نے مبعوث ہو کر تمام علوم دینیہ مروجہ میں ایک عظیم الشان انقلاب پیدا کر دیا ہے اور صرف ایک دو مسئلوں پر روشنی نہیں ڈالی۔تو ان علوم کے محافظ پیدا کرنے بھی نہایت ضروری ہیں اور ایسے علماء ایک زبردست علمی | درسگاہ کی موجودگی کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتے اور یہی غرض مدرسہ احمدیہ کی ہے۔اس وقت تک ابتدائی حالت کی وجہ سے اس غرض پر پورے طور سے زور نہیں دیا جا سکتا تھا مگر میں نے اب اس کے نصاب میں تغیر کر کے اسے ایسے رنگ میں چلانے کی ہدایت کی ہے کہ آئندہ یہی غرض اس کے منتظموں کے زیر نظر رہے اور آہستہ آہستہ چار سال کے عرصہ میں کالج تک ترقی دینے کا فیصلہ کر دیا ہے۔وَاللهُ الْمُوَقِّقُ۔ان تغیرات کے بعد اور ایک مقصد عظیم کو اس مدرسہ کے نصب العین کر دینے کے بعد اس کی اندرونی اصلاح کے ساتھ میں چاہتا ہوں کہ اس کی بیرونی حالت کی درستگی کی طرف بھی توجہ دی جائے اور یہ کام بغیر جماعت کی توجہ کے نہیں ہوسکتا۔مدرسہ کے منتظمین اور اسا تذہ خواہ کس قدر بھی توجہ کریں لیکن آگے طالب علم کافی تعداد میں نہ ہوں یا اس قابلیت کے نہ ہوں جو اس امانت کے قابل ہو سکیں تو ان کی کوششیں اور ہماری سعی حسب دل خواہ بار آور نہیں ہوسکتی۔پس میں اس تحریک کے ذریعہ تمام جماعت احمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس