زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 85

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 85 جلد دوم وہ آ کر لوگوں کو مومن بناتا ہے۔کافر لوگ خود اپنے آپ کو بناتے ہیں۔جب یہ حالت ہو جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلی زمین اور آسمان بر باد ہو چکے ہیں اور ان پر شیطان نے قبضہ کر لیا ہے۔اس وقت خدا تعالیٰ نبی کو مبعوث کر کے کہتا ہے جاؤ اور جا کر نئی زمین اور نیا آسمان بناؤ۔تب نبی آ کرنئی زمین اور نیا آسمان بناتا ہے۔نادان کہتے ہیں یہ شرک ہے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی نئی زمین اور نیا آسمان بنانے نہیں آتا تو وہ نبیوں کی صف میں کھڑے ہونے کی کوئی وجہ نہیں رکھتا۔یہی وجہ ہے کہ جب کوئی نبی آتا ہے تو وہ دنیا کو بدل دیتا ہے۔بول چال بدل جاتی ہے۔رنگ ڈھنگ بدل جاتا ہے اور ہر نفس بدل جاتا ہے۔اسی مدرسہ احمدیہ کے قیام کا سوال تھا کہ ایک صاحب نے اس مجلس میں جو غور کرنے کے لئے منعقد ہوئی تھی کہا ہمیں کوئی دینی مدرسہ قائم کرنے کی کیا ضرورت ہے۔غیر احمدیوں سے ہمارا صرف وفات مسیح کے مسئلہ میں اختلاف ہے۔وہ کہتے ہیں حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں ہم کہتے ہیں فوت ہو گئے۔ہمارے لئے یہ کافی ہے کہ ایک رسالہ لکھ دیں جس میں وفات مسیح کے دلائل درج ہوں اور وہ لوگوں کے سامنے پیش کریں۔باقی ہمارے لڑکے جائیں اور دوسرے مدرسوں میں پڑھیں۔یہ مجلس اس دالان میں منعقد کی گئی تھی جو میاں بشیر احمد صاحب کے مکان کا ہے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس میں موجود نہ تھے۔جب آپ کو معلوم ہوا کہ یہ بات کہی گئی ہے تو آپ نے ایک تقریر فرمائی جس میں فرمایا مسیح کی وفات کی غلطی کو دور کرنا بھی اس سلسلہ کی بہت بڑی غرض ہے۔لیکن صرف اتنی سی بات کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھ کو کھڑا نہیں کیا بلکہ بہت سی باتیں ایسی پیدا ہو چکی تھیں کہ اگر ان کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ ایک سلسلہ قائم کر کے کسی کو مامور نہ کرتا تو دنیا تباہ ہو جاتی اور اسلام کا نام و نشان مٹ جاتا۔غرض نبی دنیا میں انقلاب پیدا کرنے کے لئے آتا ہے اور ہم جو ایک نبی کی جماعت