زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 4

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 4 جلد دوم تو ان کی بڑی غرض یہ تھی کہ بنی اسرائیل میں نرمی پیدا کریں مگر یہ نہیں کہ انہیں اسی حصہ کے متعلق تعلیم دی گئی اور باقی علوم و عرفان انہیں حاصل نہ تھے۔اگر حاصل نہ تھے تو ہدایت کے کامل درجہ پر وہ کس طرح پہنچ سکتے تھے۔حقیقت یہی ہے کہ کوئی ہادی ایسا نہیں ہو سکتا جو ہر پہلو سے کامل نہ ہو۔بندوں کے بنائے ہوئے ہادی اور راہنما ناقص بھی ہو سکتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ جن کو ہادی بنا کر بھیجتا ہے انہیں کامل ہی بنا کر بھیجتا اور تمام معارف اور حقائق ان پر کھولتا ہے۔پس باوجود اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایمانیات میں اور آسمانی علوم کے ہر حصہ میں خدا تعالیٰ نے کامل اور مکمل وجود بنا کر بھیجا اور باوجود اس کے کہ اپنی معرفت اور اپنی صفات کا کامل علم بخشا کئی لوگ یہی کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو وفات مسیح کا مسئلہ ثابت کرنے کے لئے یا اور بعض مسائل کا ثبوت دینے کے لئے بھیجا ہے۔لوگ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں کو پڑھتے ہیں تو ان کے مد نظر صرف یہ بات ہوتی ہے کہ ختم نبوت یا وفات مسیح پر آپ نے کیا دلائل دیئے اور ان کی نظر ان مسائل کے متعلق دلائل معلوم کرنے تک ہی محدود رہتی ہے۔وہ آپ کی بعثت کی اصل غرض کو نہیں پہچان سکتے۔مجھے یاد ہے جب مولوی برہان الدین صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات پر مدرسہ احمدیہ کے قائم کرنے کا سوال پیدا ہوا تو بعض نے کہا الگ مدرسہ قائم کرنا چاہئے، بعض نے کہا ہائی سکول کو توڑ کر دینیات کا مدرسہ بنا دیا جائے۔بعض نے یہ بھی کہا که کسی مدرسہ کی ضرورت ہی نہیں۔سالانہ جلسہ کے ایام تھے یہ پراپیگنڈا اس قدر زور سے کیا گیا کہ قادیان میدانِ جنگ بنا ہوا تھا۔میں ان لوگوں میں سے تھا جو یہ کہتے تھے کہ مدرسہ احمد یہ الگ بنانا چاہئے اور ہائی سکول کو نہ توڑا جائے۔صرف ایک وجود اور تھا جو اس خیال کا تھا اور وہ میرے استاد حضرت خلیفہ اول تھے۔آپ کی بھی یہی رائے تھی کہ مدرسہ ہائی کو قائم رکھا جائے اور دینیات کا مدرسہ الگ بنایا جائے۔باقی سب کی جنہوں