زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 3

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 3 جلد دوم ہو گیا حالانکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو انسان آتے ہیں وہ کسی ایک بات کے ثابت کرنے کے لئے نہیں آیا کرتے بلکہ جس چیز کو بھی وہ چھوتے ہیں اس کا ذرہ ذرہ بدل جاتا ہے اور اس طرح ایک انقلاب آ جاتا ہے۔دیکھو جب کسی شہر میں بادشاہ آتا ہے تو اس کی ساری گلیوں اور ساری دکانوں کو سجایا جاتا ہے۔صرف وہی گلیاں اور وہی دکانیں نہیں سجائی جاتیں جن کے پاس سے بادشاہ نے گزرنا ہوتا ہے بلکہ ہر دکان اور ہر گلی سجائی جاتی ہے۔اگر دنیا کے بادشاہ کے لئے شہر کا ہر کونہ اور ہر دکان صاف کی جاتی ہے تو کیا ممکن ہے خدا کسی قلب پر نازل ہو اور اس کے متعلق کہا جائے یہ اتنے ہی کام کے لئے آیا ہے؟ اگر فرض بھی کر لیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت وفات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ ثابت کرنے کے لئے تھی تو بھی جب خدا تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا تو ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ آپ پر اترتا اور آپ کے کسی کونہ کو بند رکھتا۔جب کسی پر خدا نازل ہوتا ہے تو اسے پورا نور اور پورا عرفان عطا کرتا ہے۔جس طرح بادشاہ کے آنے کے موقع پر وہ گلیاں بھی جن میں سے اس کا گزرنا ضروری نہیں ہوتا اور وہ دکانیں بھی جہاں وہ نہیں ٹھہرتا سجائی جاتی ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ بھی اپنے پیارے بندہ کا کونہ کو نہ سجاتا ہے۔پس اگر یہ فرض بھی کر لیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہی کام تھا کہ وفات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ ثابت کریں تو بھی ضروری تھا کہ خدا تعالیٰ آپ کا ہر ایک کو نہ نور سے بھر دیتا۔لیکن یہ بات غلط ہے اور بالکل غلط ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام صرف وفات مسیح کا مسئلہ ثابت کرنے کے لئے یا چند اور مسئلوں کے لئے مبعوث کئے گئے۔کسی ایک مسئلہ کے لئے مامور نہیں آیا کرتے۔اللہ تعالیٰ جب کسی مامور کو بھیجتا ہے تو دنیا کی ہدایت کے لئے بھیجتا ہے اور ہدایت تقسیم کے قابل چیز نہیں۔انسان تقسیم ہوتے ہیں مگر ہدایت تقـ نہیں ہوتی۔یہی وجہ ہے کہ نو ر اور ہدایت چاہے انسان مکمل نہ ہوں تو بھی مکمل ہی دی جاتی ہے۔تفصیلات زمانہ کے لئے چھوڑ دی جاتی ہیں۔لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ روحانی ترقیات کے لئے کسی چیز کی ضرورت ہو اور وہ چھوڑ دی جائے۔مثلام حضرت مسیح ناصری جب آئے