زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 80
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 80 جلد دوم ہیں کہ کہتے ہیں قرآن میں کوئی آیت منسوخ نہیں۔مگر آج کسی سمجھدار آدمی یا مولوی کے پاس جاؤ وہ تسلیم کرے گا کہ قرآن کریم میں کوئی ناسخ و منسوخ نہیں۔اگر چہ بعض باتوں کو سیاسی اغراض یا تعصب کی وجہ سے تسلیم نہیں کیا جاتا مگر احمدیت نے ان کی عمارت کے اندر سرنگ لگالی ہے۔اور اگر آج نہیں تو کل ضرور وہ گر کر رہے گی۔اور یہ مشکل کام کی نہیں۔اگر نوجوان ہمت نہ دکھا ئیں یا گھبرائیں تو یہ نہایت افسوس کی بات ہوگی۔بے شک دلوں کا فتح کرنا آسان کام نہیں۔مگر اس کے لئے تمام سامان ہمارے پاس موجود ہیں جو اوروں کے پاس نہیں ہیں۔اس واسطے دنیا کے مقابلہ میں ہمارے لئے یہ کام آسان ہے۔پس ہمارے نئے ہونے والے اور پرانے مبلغین سب کو خیال رکھنا چاہئے کہ کھانا پکا ہوا تیار ہے اب صرف اس کا کھانا باقی ہے۔اپنے حوصلوں اور ارادوں کو بلند و بالا کرو اور اس نعمت کی عظمت کو پہچانو جو خدا تعالیٰ نے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی معرفت دی ہے۔آج لوگوں کا یہ کہنا کہ مسیح علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں یا قرآن میں ناسخ و منسوخ نہیں کوئی معمولی بات نہیں۔اس کے پیچھے ایک ایسی طاقت ہے جو دنیا کو تہ و بالا کر سکتی ہے اور اس کے ذریعہ زمین و آسمان کو الٹ دیا جا سکتا ہے۔پس اس نعمت کی قدر کرو۔اگر آدمی کو معلوم نہ ہو کہ اس کے پاس جو ہتھیار ہے وہ کس قدر زبردست ہے تو وہ شکست کھا جاتا ہے۔اس لئے اس نعمت کی عظمت کو پہچانو اور خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو ایسی نعمت اور دولت دی ہے کہ کوئی قوم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارے نوجوانوں کو سچا خلوص اور تقومی عطا کرے جو اس کے منشاء کے مطابق ہو۔اور جنہوں نے اپنے واپس آنے والے بھائی کی دعوت کی ہے انہیں اس کا اجر عطا کرے۔نیز خان صاحب کے کام میں جو حصہ خلوص سے کیا گیا اس کے بدلہ میں انعام عطا کرے۔اور جس میں کوئی غلطی رہ گئی ہے اسے معاف کر کے اسے بھی نیکی سے بدل دے۔اور جو مبلغین کام کر رہے ہیں یا آئندہ کرنے