زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 79
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 79 جلد دوم ماننا پڑے گا کہ یہی غالب آنے والی قوم ہے۔وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ شاید حالات بدل جائیں اور ایسی صورت اختیار کر لیں کہ یہ جماعت تباہ ہو جائے۔مگر یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ہمارے اندر ترقی کرنے کی قابلیت موجود نہیں۔اگر چہ ہمارے نزدیک یہ خیال بھی غلط ہے کیونکہ ہم اپنی ترقی کا یقین اللہ تعالی کی طرف سے الہام کی بناء پر رکھتے ہیں۔لیکن جو لوگ اس بات پر ایمان نہیں رکھتے وہ بھی اس امر کو دیکھ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسی طاقت دی ہے کہ دنیا کا کوئی مذہب مقابل پر ٹھہر نہیں سکتا۔باقی رہا حوادث زمانہ سے تباہی کا احتمال۔سو جیسے یہ احتمال ہے کہ تباہ ہو جائے ویسے ہی یہ بھی ہے کہ نہ ہو۔ہمارے پاس معقولیت ہے جو کسی دوسرے مذہب کے پاس نہیں۔عیسائیت کس بات کی تائید کے لئے کھڑی ہے؟ اسی لئے کہ ایک کھانے پینے والے انسان کو جس کی اگر قرآن کریم تصدیق نہ کرتا تو بائبل میں اس کے پیش کردہ حلیہ کے رو سے شاید اسے نیک آدمی منوانا بھی مشکل ہو جاتا ( چہ جائیکہ ) اسے خدا منوائے۔مسلمان کس چیز کو پیش کرتے ہیں؟ یہ کہ مرض تو دنیا میں موجود ہے مگر اس کا علاج موجود نہیں۔کون عقلمند ہے جو اسے تسلیم کرے۔ان کے پیش کردہ سب دلائل کے بعد بھی اگر پوچھا جائے تو ہر عقلمند اور سمجھ دار اس بات کو مانے گا کہ اگر مرض باقی ہے تو علاج بھی ضرور موجود ہونا چاہئے۔اسی طرح ہندوؤں کی طرف سے جو باتیں پیش کی جاتی ہیں وہ بھی معقولیت سے خالی ہیں۔لیکن احمدیت اگر چہ لوگ بظاہر اس کی مخالفت ہی کریں رائج وہی ہورہی ہے۔وہی باتیں جن کی بناء پر آج سے ہیں سال پہلے ہم پر کفر کے فتوے لگائے جاتے تھے اب انہیں دنیا تسلیم کر رہی ہے۔پہلے کہا جاتا تھا کہ عیسی علیہ السلام کا مرنا خلاف اسلام بات ہے کہ ، ہے لیکن آج کہا جاتا ہے کہ اس بات کو کون مانتا ہے کہ حضرت عیسی آسمان پر زندہ ہیں۔اور اب مخالفین کا بیشتر حصہ اس کا قائل ہو چکا ہے۔منہ سے خواہ وہ مخالفت ہی کریں مگر دل ضرور مان چکے ہیں۔اسی طرح ناسخ و منسوخ کا مسئلہ ہے۔ایک زمانہ تھا کہ کہا جاتا تھا یہ لوگ کیسے پاگل