زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 77

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 77 جلد دوم انسانی زبان میں گفتگو کرنا اس کی شان کے خلاف ہے۔مگر ان سب باتوں کے جواب میں میں صرف یہی کہوں گا کہ اگر یہ واقعہ خود میرے ساتھ پیش آیا ہو اور میں نے واقعی سمجھ لیا ہو کہ یہ خدا تعالیٰ کے الفاظ ہیں تو بتاؤ تمہارے دلائل کی میرے نزدیک کیا حقیقت رہ سکتی ہے۔ان میں سے ہر ایک نے کہا کہ اس صورت میں تو واقعی کوئی دلیل آپ پر اثر نہیں کرتی سکتی۔میں نے کہا تم مجھے پاگل سمجھ لو غلطی خوردہ قرار دے لو لیکن جب مجھے یقین ہے کہ خدا تعالیٰ نے میرے ساتھ کلام کیا ہے تو میں کیسے مان لوں کہ محمد ﷺ سے وہ ہمکلام نہیں ہوا۔یہ وہ چیز ہے جس کے مقابلہ میں کوئی نہیں ٹھہر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل یہ ایک ایسی نعمت ہمیں ملی ہے کہ ہم کسی جگہ بھی شرمندہ نہیں ہو سکتے اور ہمیں کسی قسم کی گھبراہٹ نہیں ہو سکتی۔کیونکہ گھبراہٹ اسی وقت ہوتی ہے جب انسان شبہ میں ہو اور اسے خیال ہو کہ ممکن ہے میری بات غلط ہو جائے۔مگر جس کا اپنا مشاہدہ ہو وہ اگر دوسروں کے سامنے ثابت نہ بھی کر سکے اور انہیں قائل نہ کر سکے تب بھی گھبراہٹ اس کے اندر پیدا نہ ہوگی۔زید کے ہاتھ میں ایک چیز موجود ہے اگر دوسرے اسے نہیں دیکھ سکتے تو اسے ان کی نظروں کی کمزوری پر افسوس ہوگا چیز کے وجود کے متعلق اس کے دل میں کوئی شبہ پیدا نہیں ہو سکتا۔وہ یہی خیال کرے گا کہ بعض لوگوں کی نظروں میں ایسی کمزوری ہوتی ہے کہ وہ بعض اشیاء کو نہیں دیکھ سکتے۔عام لوگوں کو دوسرے سے گفتگو کرتے ہوئے خطرہ ہوتا ہے کہ اگر کسی نے سائنس کی تھیوری پیش کر دی یا کوئی اور اصطلاح لے بیٹھا تو ہم کیا جواب دیں گے۔لیکن ہمارے سامنے اگر ایسی صورت پیش آئے تو ہم کہیں گے تمہاری سائنس تمہیں مبارک ہو لیکن ہم اس واقعہ کو کیا کریں جو ہمارے ساتھ پیش آ رہا ہے۔آپ کا فلسفہ صحیح ہو گا لیکن ہم اپنے مشاہدہ کے مقابل میں اس کی کیا حقیقت سمجھ سکتے ہیں۔غرضیکہ اس کے مقابل پر نہ فلسفہ ٹھہر سکتا ہے اور نہ سائنس۔اور اس سے ہماری جماعت کو ایک ایسی طاقت اور قوت حاصل ہوگئی ہے کہ ناممکن ہے یہ جماعت کسی سے دب سکے۔جتنا کسی جماعت کے اندر یقین ہوتا ہے اتنا ہی وہ زیادہ ترقی کر سکتی ہے۔جب بھی کسی قوم نے