زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 78

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 78 جلد دوم ترقی کی ہے پہلے اس کے اندر یقین پیدا ہوا ہے کہ ہم ضرور جیتیں گے۔پھر یہ نہیں کہ جیتنے کا صرف دعوئی ہی دعوئی ہو ، دعوئی اور یقین میں بہت فرق ہے۔دعوئی جوش کی حالت میں کیا جاتا ہے اور یقین ٹھنڈی حالت میں۔لڑائی کے وقت ایک دوسرے کو کہتا ہے میں جان سے ماردوں گا، تمہیں پیس ڈالوں گا ، تباہ کر دوں گا۔حالانکہ دوسرا اس سے اس قدر طاقتور ہوتا ہے کہ تھپڑ مارے تو مر جائے۔اور اگر جوش کی حالت نہ ہونے کے وقت یعنی دو چار روز پہلے یا لڑائی کے بعد جب اسے کوئی غصہ فریق مخالف کے متعلق نہ ہو اس سے پوچھا جائے کہ فلاں آدمی طاقتور ہے یا تم ؟ تو وہ نہایت سادگی سے تسلیم کرے گا کہ وہ مجھ سے بہت زیادہ طاقتور ہے۔یہ تو دعوی کی صورت ہے، لیکن یقین ان تمام حالات کو جو عقل پر پردہ ڈال دیتے ہیں علیحدہ کر کے ہوتا ہے۔مسلمان عام طور پر یہی کہتے ہیں کہ ہم ہندوؤں کو مار دیں گے لیکن جب علیحدگی میں بیٹھ کر ٹھنڈے دل سے بات چیت کرتے ہیں تو اس امر کو تسلیم کر لیتے ہیں کہ ہماری حالت بہت خراب ہے اور ہم کسی پہلو سے بھی دوسروں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔گویا دعویٰ جوش اور دیوانگی پر مبنی تھا۔تو میں بتا رہا تھا کہ ترقی کے لئے خواہ وہ دینی ہو یا دنیوی پہلی ضروری چیز یقین ہے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل ہمیں حاصل ہے۔اور یہ صرف اس وجہ سے نہیں کہ دلائل کے لحاظ سے ہمارے مقابل پر کوئی نہیں ٹھہر سکتا بلکہ اس لئے بھی کہ ایسی خبر میں خدا تعالیٰ کے کلام میں موجود ہیں کہ زمین و آسمان انہیں نہیں ٹال سکتے اور کوئی طاقت انہیں پورا ہونے سے نہیں روک ہو سکتی۔پس ہم یقین کے اس مقام پر ہیں جہاں دوسرا اور کوئی نہیں۔اس لئے ہمیں قربانی بھی ایسی ہی کرنی چاہئے جو دوسرے نہ کر سکتے ہوں۔دیکھو زمیندار کو یقین ہوتا ہے جس کی بناء پر وہ غلہ گھر سے نکال کر باہر پھینک آتا ہے۔پس ایک طرف مشاہدہ اور دوسری طرف یقین یہ ہمیں حاصل ہیں۔اور یہ ایسی چیزیں ہیں کہ ممکن نہیں کسی کے سامنے یہ پیش کی جائیں اور وہ اس امر کو تسلیم نہ کرے کہ ہمارے اندر نشو ونما کی وہ قابلیت ہے جو دوسرے کسی کے اندر نہیں۔اور اس لئے سب کو