زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 76
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) ہے۔76 جلد دوم الفاظ میں پیش کر کے سب کی کوششوں کو باطل کر دیتا ہے۔وہ جملہ کیا ہے؟ یہ کہ بے شک تمہاری تعلیمات اعلیٰ درجہ کی ہیں اور دعوے اس قسم کے ہیں کہ ان کے متعلق تمہارے دلائل مجھے ہوئے اور سلجھے ہوئے ہیں مگر ایک بات بتاؤ کہ ان کا نتیجہ کیا ہے۔اگر مذہب کی غرض خدا تعالیٰ سے ملاقات اور وابستگی ہے اور اس کے بدلہ میں کوئی چیز ملتی ہے تو ہم ان کے اصطلاحات کے چکر میں جانے کے بجائے تم سے یہ پوچھتے ہیں کہ تمہیں خدا سے کیا ملا ہے۔بس اس پر گل مذاہب ایسے دم بخود ہو جاتے ہیں کہ گویا سانپ سونگھ گیا۔ہمارا وہ سیدھا سادھا زمیندار جو تمام فلسفوں سے نہ صرف عاری ہے بلکہ انہیں سمجھنے کی بھی اہلیت نہیں رکھتا وہ ایک فقرہ سے سب کو نادم اور خاموش کر دیتا ہے۔وہ کہتا ہے میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم پر عمل کر کے زندہ خدا کے کچھ نہ کچھ زندہ نشان دیکھے ہیں۔اس کے مقابل میں تمہارے پنڈتوں ، عالموں اور ربیوں نے کیا دیکھا ؟ وہ صرف یہ ہی نہیں کہتے کہ انہوں نے نہیں دیکھا بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔اور یہ کہ کر وہ گویا اس کی عظمت و شان کا اعتراف کرتے ہیں۔خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب نے اپنی تقریر میں پروفیسر مارگولیتھ کا ذکر کیا ہے میں نے بھی سفر یورپ میں ان سے اور بعض دوسرے مستشرقین سے گفتگو کی اور کہا کہ آپ قرآن کریم کے متعلق یہ خیال رکھتے ہیں کہ یہ خدا کا کلام نہیں اور اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے قلب پر یا کان میں ڈالا گیا۔اور اس کے لئے کبھی آپ تاریخوں سے دلائل ڈھونڈتے ہیں، کبھی یہ کہتے ہیں کہ یہ نتائج ہیں ان طبعی حالات کے جن میں سے آپ گزرے، کبھی کہتے ہیں یہ جوابات ہیں ان سوالات کے جو قوم کی طرف سے آپ پر کئے جاتے تھے اور اس لئے یہ رسول کریم ﷺ کی بنائی ہوئی کتاب ہے۔لیکن میں کہتا ہوں ان بحثوں کو جانے دو کہ یہ ان حالات کا طبعی یا تاریخی نتیجہ ہے یا سوالات کا جواب ہے۔میں تسلیم کرتا ہوں محمد یہ عظیم الشان نبی اور ہادی ہیں۔تم فلسفیانہ اور سائنٹیفک دلائل سے ثابت کرو کہ خدا تعالیٰ کی زبان نہیں اور وہ نہیں بولتا یا کسی