زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 75

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 75 جلد دوم کو نیل سے زیادہ مضبوط نظر آتی ہیں۔مگر کوئی شخص ان کو اور تاڑیا آم یا یوکلپٹس 2 کی تازہ روئیدگی کو دیکھ کر یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ جھاڑی ان سے زیادہ مضبوط ہے۔ایک گیہوں کا پودا چار ماہ میں جتنی بلندی حاصل کر لیتا ہے آم کا پودا اتنے عرصہ میں اتنی ترقی نہیں کر سکتا مگر باوجود اس کے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ گیہوں کا پودا آم سے زیادہ مضبوط ہے۔بلکہ دیکھا یہ جاتا ہے کہ آم میں کس قدر بلند ہونے کی طاقت ہے اور گیہوں میں کتنی۔پس ہماری جماعت کی طاقتوں کا اندازہ اس پر نہیں کیا جا سکتا کہ ہم کتنی ترقی کر چکے ہیں بلکہ اس کا اندازہ دنیا کو اس سے لگانا چاہئے کہ ہمارے اندر کس قدر ترقی کرنے کی گنجائش موجود ہے۔اور اس اصل کے ماتحت احمدیت کو اگر دیکھا جائے تو کوئی قوم خواہ اس کے افراد ہم سے کتنے زیادہ کیوں نہ ہوں ، وہ کتنی زیادہ منظم اور وسیع کیوں نہ ہو اور اس کا مال و دولت دنیا کو خیرہ کرنے والا کیوں نہ ہو پھر بھی احمدیت کے مقابل میں اس کی حقیقت بیج ہے۔تفصیلات کو جانے دو ایک ایسی چیز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہمیں ملی ہے جس کے مقابل میں تمام دلائل اور تمام مذاہب کے فلسفے باطل ہیں۔جس وقت مسیحیت کے فلسفی اپنی چرب زبانی اور وسیع تجربہ کے ماتحت دل لبھانے والی اصطلاحات کو پیش کرتے ہوئے عیسائیت کو خوب صورت شکل میں دنیا کے پیش کرتے ہیں ، جس وقت پنڈت لاکھوں بلکہ جیسا کہ وہ کہتے ہیں کروڑوں سال کی تہذیب پر بنیاد رکھتے ہوئے جو گیوں کی عمروں کے غور کئے ہوئے مسائل پیچیدہ اصطلاحات میں جنہیں وہ خود بھی نہیں سمجھتے پیش کرتے ہیں، جس وقت مسلمان علماء کہلانے والے لمبے جبوں کے ساتھ یونانیوں کی پس خوردہ یا ان سے نقل کردہ اصطلاحات میں اسلام کے مسائل ایسے رنگ میں پیش کرتے ہیں جو اسلام اور بانی اسلام کے مدنظر نہ تھا ، جس وقت یہودی نبوت کی لمبی زنجیر پر انحصار رکھتے ہوئے ان خوبصورت تشبیہات کے ساتھ جن پر یہودیت کو ناز ہے۔اپنی تعلیم پیش کرتے ہیں اُس وقت ایک فقرہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش کیا، ایک جملہ جس پر تمام تعلیمات کا انحصار ہوتا ہے ایک احمدی اسے سیدھے سادھے