زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 74
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 74 جلد دوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہمیں جو نعمتیں ملی ہیں ان کی عظمت کو پہچانو 3 مئی 1933 ء کو جامعہ احمدیہ و مدرسہ احمدیہ کی طرف سے محترم جناب خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب مبلغ انگلستان کے اعزاز میں ایک مشترکہ ٹی پارٹی دی گئی جس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی بھی تشریف لائے۔اس موقع پر حضور نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد جو خطاب فرمایا وہ حسب ذیل ہے :۔" میں زیادہ دیر تک کھڑا نہیں ہوسکتا کیونکہ کل سے پیچش کی تکلیف ہے۔لیکن چونکہ ہمارے سلسلہ کے کاموں میں مبلغین کا آنا جانا نہایت اہم امور میں سے ہے، میں اس موقع کا خالی جانا بھی پسند نہیں کرتا۔چونکہ یہ دعوت مبلغین ، کالج کے طلباء اور مدرسہ احمدیہ کے طلباء کی طرف سے کی گئی ہے اور چونکہ وہ آئندہ اس کام اور بوجھ کو اٹھانے والے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہماری جماعت پر رکھا گیا ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ زیادہ تر انہیں کو مجھے مخاطب کرنا چاہئے۔اس میں شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری جماعت کے لئے فتوحات مقدر کی ہیں اور آئندہ زمانہ میں اگر کوئی دین غالب ہونے کی حیثیت سے قائم رہے گا تو وہ احمدیت ہی ہوگی۔ظاہری حالات کے ماتحت بے شک ہم کمزور نظر آتے ہیں لیکن دنیا میں ہر چیز کی طاقت کا اندازہ لگاتے ہوئے اس بات کو ہی نہیں دیکھا جاتا کہ اس کی موجودہ طاقت کیا ہے۔بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ کس حد تک ترقی کر سکتی ہے۔بیسیوں چھوٹی چھوٹی جھاڑیاں ایسی ہیں جو تاڑ 1 کے درخت یا آم کے درخت کی تازہ نکلی ہوئی