زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 70
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 70 جلد دوم معمولی سوال تھا کہ ہمارا ایک طالب علم بھی اس کا جواب بآسانی دے سکتا ہے۔مگر حق کا رعب ایسا پڑا کہ وہ ہمارے سامنے بول نہ سکے۔اسی طرح اور مقامات پر بھی میں نے دیکھا ہے کہ الہی نصرت ایسے طریق پر مومن کے شامل حال ہوتی ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ ظاہری علوم میں پیچھے ہوتا ہے لوگ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔مگر یہ نصرت خشیت الہی کے نتیجہ میں آیا کرتی ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا شعر ہے ہر اگر اک نیکی کی جڑ اتفا ہے چڑ رہی سب کچھ رہا ہے اصل بات یہ ہے کہ خشیت اللہ اگر انسان کو حاصل ہو جائے تو نصرت الہی بھی اس کے شامل حال ہو جاتی ہے اور پھر کوئی میدان ایسا نہیں ہوتا جس میں وہ دشمن سے گھبرا سکے بلکہ ہر میدان میں فتح حاصل ہوتی ہے۔اور کیوں فتح نہ ہو جبکہ خدا تعالیٰ کہتا ہے كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِی 3 یعنی خدا تعالیٰ نے یہ فرض قرار دے دیا ہے کہ میں اور میرے رسول دنیا پر غالب ہو کر رہیں گے۔اس جگہ رُسُلُ سے صرف رسول ہی مراد نہیں بلکہ رسولوں کے متبع بھی اس میں شامل ہیں۔پس کس طرح ہو سکتا ہے کہ جس گروہ کے متعلق خدا تعالیٰ کی طرف سے غلبہ مقدر ہو وہ بجائے غالب ہونے کے مغلوب ہو جائے۔لیکن جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے اندر ایمان ہو۔ظاہری لحاظ سے دوسرے لوگ ہم سے بہت آگے ہیں اور قوم کی خاطر قربانی کرنے والے بہت پائے جاتے ہیں۔ہمارے دفاتر اور مدارس میں جو کام ہوتا ہے اگر ہم دیکھیں تو باہر کے لوگ زیادہ وقت دفتروں میں دیتے اور زیادہ محنت اور دلچسپی کے ساتھ تعلیم وغیرہ میں حصہ لیتے ہیں۔پس ہمارے اخلاص اور تعلق باللہ کا نشان اگر ظاہری کام ہو تو یقیناً ہم دنیا کے سامنے اپنے کاموں میں شرمندہ ہو جائیں۔جو چیز ہمیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ ہے کہ دوسرے لوگ قوم، ذات یا ملک کے لئے یا مقرر کردہ آئیڈلز اور مقاصد کے لئے کام کرتے ہیں مگر ہم محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کرتے ہیں۔یہ وہ