زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 69
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 69 جلد دوم کی ان کے مقابلہ میں کوئی ہستی نہیں۔مگر باوجود اس کے ایک موقع بھی آج تک ایسا نہیں آیا کہ دنیا کے کسی بڑے سے بڑے عالم سے ہمیں شکست اٹھانی پڑی ہو۔جب وہ ہمارے مقابل پر آتے ہیں تو اس قدر مرعوب ہو جاتے ہیں کہ ان کی زبانیں خشک ہو جاتی ہیں اور ان کی ڈینگیں اور بڑیں کوئی نتیجہ پیدا نہیں کر سکتیں۔میں جب ولایت گیا تو پروفیسر مارگولیتھ کے متعلق مجھ سے بعض انگریز اور ہندوستانی طالب علموں نے بیان کیا کہ وہ کہتا ہے میں جب قادیان گیا اور عربی میں گفتگو کرنی چاہیے تو کوئی مجھ سے عربی زبان میں گفتگو نہ کر سکا۔پروفیسر مارگولیتھ اس سے پہلے قادیان آچکا تھا۔میں نے جب یہ باتیں سنیں تو انہیں کوئی وقعت نہ دی۔مگر وہ ہندوستانی طالب علم اصرار کرنے لگے کہ اب آپ ولایت آئے ہوئے ہیں یہ ایک نیکی کا کام ہے اور اسلام کی فتح ہوگی اگر اس کے دعوی کو باطل کیا جائے اس کے ساتھ عربی میں گفتگو کریں۔بعض انگریز تماش بین تھے وہ بھی اصرار کرنے لگے۔آخر میں نے ایک مجلس منعقد کی اور حافظ روشن علی صاحب مرحوم سے کہا کہ چائے کی پارٹی پر پروفیسر مارگولیتھ کو بھی بلانے کا ارادہ ہے اس سے آج عربی میں گفتگو کریں گے۔آخر وہ آیا اور اس سے گفتگو شروع کی گئی۔مگر ابھی دو چار ہی باتیں ہوئی تھیں کہ اس طرح اس کے حواس اڑے کہ تمام لوگ حیران رہ گئے۔اس کا منہ خشک ہو گیا اور کہنے لگا آپ لوگ عالم ہیں میں آپ سے عربی میں گفتگو نہیں کر سکتا۔اردگرد جو لوگ کھڑے تھے وہ اس کی باتوں پر بننے لگے اور انہوں نے تمسخر کرنا بھی شروع کیا مگر وہ بولا تک نہیں، اس کا رنگ بالکل فق ہو گیا، زبان خشک ہو گئی اور اصرار کے باوجود باتیں کرنے سے انکار کر دیا۔حالانکہ وہ مستشرقین میں چوٹی کا آدمی سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح ایک اور مجلس میں دو بڑے بڑے آدمی جو ز بر دست مصنف اور عربی علوم کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور انگریزوں کے زبر دست اور مینٹلسٹ (Orientalist) ہیں موجود تھے۔ہمارے سامنے ان سے کسی شخص نے ایک سوال کیا مگر ان دونوں نے ہماری طرف اشارہ کر کے کہا ان کی موجودگی میں ہم کیا جواب دے سکتے ہیں حالانکہ وہ اتنا