زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 68

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 68 جلد دوم میرے تعلقات ان سے قدیم سے تھے اس لئے میں ان پر حسن ظن رکھتا تھا اور میں سمجھتا تھا کہ اگر ظاہری تجربہ میں کوئی کمی بھی ہوئی تو یہ دعائیں کر کے اس کمی کو پورا کر لیں گے۔اس کے بعد جب چودھری ظفر اللہ خان صاحب ولایت گئے تو ان کی رپورٹ جو لندن مشن کے متعلق تھی وہ نہایت ہی خوشکن تھی۔انہوں نے لکھا کہ اب کچھ اس قسم کی ترقی خدا کے فضل سے ہو چکی ہے کہ یوں کہنا چاہئے گویا پہلا نظام ہی بدل گیا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ کی اس سنت کے ماتحت کہ جو بھی اس کے سامنے گر جائے وہ خاص طور پر اس کی نصرت فرماتا ہے خدا تعالیٰ نے خانصاحب کو کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔اور میں سمجھتا ہوں اگر یہی روح ان میں قائم رہی تو خدا تعالیٰ انہیں اور بھی خدمت دین کے مواقع عطا فرمائے گا۔میری غرض اس تمام بیان سے یہ ہے کہ اصل چیز جس پر ہمارے تمام کاموں کی بنیاد ہونی چاہئے وہ اللہ تعالیٰ پر توکل ہے۔علم کے لحاظ سے ہمارے بڑے سے بڑے عالم بھی دنیا کے دوسرے عالموں کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔اور درحقیقت اگر ہم یہ نہ کہیں تو ایک حقیقت کا انکار ہو گا کہ اگر ہماری جماعت کے سائنس دانوں کو لیا جائے تو وہ باقی دنیا کے سائنس دانوں کے مقابلہ میں بچوں کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔اگر دنیاوی علوم کو لیا جائے تو اس لحاظ سے بھی ہمارے علماء کی کوئی حیثیت نہیں۔دنیا میں ایسے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جنہوں نے اپنی ساری عمریں محض چند مسائل کی تحقیق میں صرف کر دیں اور ان کا مقابلہ ہماری جماعت کے علماء ہی کیا ساری دنیا بھی نہیں کر سکتی۔پھر اسی زمانہ میں مسلمانوں میں ایسے ایسے عالم ہیں جنہوں نے فقہ، تاریخ اور حدیث کے متعلق ایسی کتابیں لکھی ہیں جو پچھلی کئی مستند کتابوں سے فوقیت لے گئی ہیں۔پس اگر ظاہری علوم کو مد نظر رکھا جائے تو ہمارا سائنس دان دوسرے سائنس دان کے مقابلہ میں، ہمارا ڈاکٹر دوسرے ڈاکٹر کے مقابلہ میں ، ہمارا انجینئر دوسرے انجینئر کے مقابلہ میں ، ہمارا مشنری دوسرے مشنری کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔اگر عیسائی مشنریوں کو دیکھا جائے تو ہمیں ان میں ایسے عالم نظر آتے ہیں کہ وہ ظاہری علوم میں اس قدر ترقی کر چکے ہیں کہ ہمارے مبلغوں