زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 67
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 67 جلد دوم تو فرماتے جانے دو! خدا خود ہی سمجھا دے گا۔میری تعلیمی حالت اور صحت کی کیفیت تو یہ تھی۔پھر سلسلہ کے انتظام کے لحاظ سے ہمارا نظام میں کوئی دخل نہ تھا۔شروع سے آخر تک پورے طور پر وہی لوگ حاوی سمجھے جاتے تھے۔اور کہا کرتے تھے کہ سارے کارکن چلے جائیں گے تو کام خود بخود بند ہو جائے گا۔مالی حالت ایسی تھی کہ جس دن وہ گئے ہیں اُس دن خزانہ میں غالباً دس آنہ کی رقم تھی اور پھر انجمن پر قرض بھی تھا۔ایسے حالات میں انہیں یقین تھا کہ سلسلہ ٹوٹ جائے گا اور عیسائی ہماری درسگاہوں پر قبضہ کر لیں گے۔پس میں سمجھتا ہوں وہ کہنے والا ایک حد تک معذور تھا۔لیکن ان ظاہری سامانوں کے علاوہ ایک اور چیز بھی تھی اور وہ ایک بالا ہستی تھی۔وہ ایک ایسی ہستی تھی جو اندر بھی ہے اور باہر بھی ، اول بھی ہے اور آخر بھی۔هُوَ الْاَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ : جس وقت ظاہری حالات یہ کہہ رہے تھے کہ یہ سلسلہ چند دنوں تک ٹوٹ جائے گا اُس کی وقت اس ہستی نے مجھے کہا ” خدائی کاموں کو کون روک سکتا ہے۔“ اور اُس وقت جب تفرقہ کی ابتدا تھی اور خود ان کی طرف سے یہ کہا جا رہا تھا کہ جماعت کا اٹھانوے فیصدی حصہ ہماری طرف ہے ، پہلے ہفتہ کے اندر اندر ہی خدا تعالیٰ نے مجھے الہاما بتایا کہ لَيْمَ قَنَّهُمُ ہمیں اپنی ذات ہی کی قسم ہے کہ ہم انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔خدا تعالیٰ کی قدرت ہے ابھی چند دن ہوئے غیر مبایعین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا مجھے اشتہار ملا۔وہ لکھتا ہے اگر چہ یہ صیح ہے کہ ہمارے عقا ئد درست ہیں لیکن میرا نام لکھ کر کہتا ہے ہم یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ ان کا الہام لَیمَزِ قَنَّهُمُ ہمارے متعلق پورا ہو چکا۔غرض میرا یہ تجربہ ہے کہ جب خدا کسی سے کام لینا چاہتا ہے تو وہ کام ہوکر رہتا ہے اور انسانی عقل ناکام ہو کر رہ جاتی ہے۔اسی تجربہ کے ماتحت میں نے خانصاحب کو انگلستان روانہ کیا۔خانصاحب سے میری پہلی ملاقات ان کے احمدیت میں داخل ہونے سے بھی پہلے ہوئی تھی۔اُس وقت میں فیروز پور کسی لیکچر کے لئے گیا اور ان سے واقفیت ہوئی۔پھر حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں انہوں نے قرآن مجید کا کچھ حصہ مجھ سے سبقاً بھی پڑھا۔تو چونکہ