زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 66
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 66 جلد دوم کے لحاظ سے دوستوں کا مشورہ وزنی تھا مگر یہ اسی صورت میں قابل قبول ہو سکتا تھا جب ہم یہ خیال کریں کہ ہمارا سلسلہ بھی دوسری قسم کی تنظیموں میں سے ایک تنظیم ہے لیکن جبکہ یہ صحیح نہیں اور جبکہ ہمارا سلسلہ خدائی سلسلہ ہے اور خدائی تائید و نصرت ہمارے شامل حال ہے تو اس قسم کا خیال بھی صحیح نہیں ہو سکتا تھا۔میں سمجھتا ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ جب کوئی مومن خدا تعالیٰ کے دروازہ پر گر جائے تو خواہ وہ نہایت ہی کمزور ہو اس کا تجربہ محدود اور اس کا علم معمولی ہو پھر بھی اللہ تعالیٰ کے حضور کامل طور پر گر جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے ایسی راہ نمائی حاصل ہوتی ہے کہ وہ کام میں کامیاب ہو کر نکلتا ہے اور مشکلات اس کے راستہ سے دور ہو جاتی ہیں۔مجھے یاد ہے جس وقت میری خلافت کا زمانہ شروع ہوا تو ابھی پانچ سات ہی دن ہوئے تھے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب یہیں تھے جب وہ لاہور جانے لگے تو ماسٹر عبد الحق صاحب مرحوم کی روایت تھی کہ انہوں نے آہ بھرتے ہوئے ہاتھ اٹھا کر اور مدرسہ ہائی کی طرف اشارہ کر کے کہا ہم تو جاتے ہیں لیکن یہ عمارتیں جو سلسلہ احمدیہ کے لئے قائم کی گئیں ایسے نا اہل لوگوں کے ہاتھوں میں آگئی ہیں کہ اب یہ سکول ٹوٹ جائے گا اور عیسائیوں کے قبضہ میں چلا جائے گا۔اس میں شبہ نہیں ظاہری حالات کے ماتحت یہ خیال صحیح سمجھا جا سکتا تھا۔میری تعلیمی حالت نہایت معمولی تھی۔ستی کہو یا صحت کی کمزوری خیال کر لو میں سکول میں کبھی اچھے نمبروں پر کامیاب نہیں ہوا تھا۔دینی تعلیم ایسی تھی کہ میرے گلے اور آنکھوں کی تکلیف کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت خلیفہ المسیح الاول کتاب خود پڑھا کرتے تھے۔آپ خود کمزور اور بوڑھے تھے مگر میری صحت کو اس قدر کمزور خیال فرمایا کرتے تھے کہ بخاری اور مثنوی رومی خود پڑھتے اور میں سنتا جاتا۔عربی ادب کی کتابیں بھی خود ہی پڑھتے۔اور جب میں پڑھنا چاہتا تو فرمایا کرتے میاں! تمہارے گلے کو تکلیف ہوگی۔مجھے یاد ہے بخاری کے ابتدائی چار پانچ سپارے تو ترجمہ سے پڑھائے مگر بعد میں آدھ آدھ پاره روزا نہ بغیر ترجمہ کئے پڑھ جاتے۔صرف کہیں کہیں ترجمہ کر دیتے۔اور اگر میں پوچھتا