زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 2
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 2 جلد دوم ممکن ہے آپ میں سے بعض لوگ خیال کریں کہ جب ایک شخص ایک جماعت میں شامل ہوتا ہے تو پھر وہ کس طرح خیال کر سکتا ہے کہ اس جماعت کے بانی کی بعثت لغو اور بے فائدہ ہوسکتی ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ الفاظ میں کوئی ایسا شخص یہ نہیں کہہ سکتا کیونکہ اگر بانی سلسلہ کی بعثت کو کوئی لغو کہتا ہے تو پھر اس پر ایمان نہیں لا سکتا۔لیکن انسانی قلب کی ظاہری کی حالت کے علاوہ ایک باطنی حالت بھی ہوتی ہے اور باطنی لحاظ سے کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بانی سلسلہ کی بعثت کو لغو سمجھ لیتے ہیں۔وہ اس کے حقیقی منشا کے خلاف چلتے ہیں، اس کے کام کی باریکیوں کی طرف توجہ نہیں کرتے اور اس حقیقت کو پیش نظر نہیں رکھتے جو اس کے تمام کاموں میں پائی جاتی ہے۔عام مسلمانوں سے اگر پوچھو کہ کیا خدا تعالیٰ نے دنیا لغو پیدا کی ہے؟ تو ہر مسلمان کہلانے والا کہے گا نہیں خدا نے کوئی چیز لغو نہیں پیدا کی۔مگر یہ کہنے والوں کی زندگیاں اور ان کا طریق عمل ثابت کرے گا کہ وہ دنیا کو لغو سمجھتے ہیں۔وہ کہنے کو تو کہیں گے کہ خدا تعالیٰ نے دنیا کا ذرہ ذرہ کام کا پیدا کیا ہے مگر ذرہ کا جو کام ہے وہ معلوم نہیں کریں گے۔اس کے مقابلہ میں یورپین لوگوں کو دیکھو وہ یہ تو نہ کہیں گے کہ دنیا کو خدا نے پیدا کیا اور خدا کی ہستی کے قائل نہ ہوں گے مگر یہ کہیں گے کہ دنیا کا ذرہ ذرہ مفید اور فائدہ بخش ہے۔اور پھر ہر چیز کے فوائد معلوم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔کہیں روشنی کے متعلق تحقیقات ہو رہی ہے۔کہیں ستاروں کے فوائد اور اثرات معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔کہیں ہوا اور پانی کے خواص معلوم کئے جارہے ہیں۔غرض ان کا عمل بتاتا ہے کہ دنیا کی کسی چیز کو لغو نہیں سمجھتے۔لیکن وہ مسلمان جو منہ سے کہتے ہیں کہ دنیا کو خدا نے لغو نہیں بنایا ان کا عمل بتاتا ہے کہ وہ ایک ایک ذرہ کو غو سمجھتے ہیں۔اسی طرح کئی احمدی ایسے ہو سکتے ہیں جو منہ سے تو یہ نہ کہیں بلکہ خیال میں بھی نہ لائیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت لغو اور بے فائدہ ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سے جو اثر وہ حاصل کرتے ہیں وہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ وہ آپ کی بعثت ضروری نہیں سمجھتے۔بعض لوگ کہتے ہیں آپ نے وفات مسیح کا مسئلہ ثابت کر دیا یہی آپ کا کام تھا جو ختم