زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 1
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 1 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مبلغین لندن اور دمشق کے اعزاز میں دعوت چائے جلد دوم 23 جولائی 1931 ء طلباء مدرسہ احمدیہ نے مکرم مولوی محمد یار صاحب مولوی فاضل مبلغ انگلستان اور مکرم مولوی اللہ دتا صاحب مولوی فاضل مبلغ دمشق کو دعوت چائے دی جس میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے بھی شمولیت اختیار فرمائی۔اس موقع پر حضور نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالی ہے اُس وقت سے ہی اس نے مجھے اس بات کے سمجھنے کی توفیق دی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دنیا میں عظیم الشان تغیر کے لئے مبعوث ہوئے ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ قدرتی طور پر انسان کو اپنے عزیزوں اور بزرگوں کی عزت کی بیچ ہوتی ہے اور وہ پسند کرتا ہے کہ اس کے عزیز اور رشتہ دار معزز ہوں۔اس میں ایک حد تک خود غرضی ہوتی ہے۔انسان اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی عزت اور بڑائی کی خواہش خود غرضی کی وجہ سے تو نہیں کرتا مگر اس میں یہ بات مخفی ضرور ہوتی ہے کہ جب عزیزوں اور رشتہ داروں کی عزت بڑھے گی تو اس کی بھی بڑھے گی۔لیکن میں نے اپنے نفس کو اچھی طرح ٹولا۔مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے مشن کے ساتھ اس لحاظ سے کبھی تعلق نہیں ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے آپ کا بیٹا بنایا اور ان کو میرا باپ بنایا۔بلکہ یہ تعلق بچپن کے زمانہ سے ہی خالص طور پر اس امر پر مینی رہا ہے کہ آپ خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوئے اور اس وجہ سے ہوش سنبھالنے کے زمانہ سے ہی میں نے محسوس کیا کہ آپ کی بعثت لغو اور بے فائدہ نہیں بلکہ عظیم الشان تغیرات کا موجب ہے۔