زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 366
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 366 سمجھتی جاتی ہے اس میں بھی ترقی کی جاسکتی ہے۔جلد دوم پھر میں نے مبلغین میں ایک نقص یہ بھی دیکھا ہے کہ وہ ہمیشہ رپورٹ بھیجنے میں کوتاہی کرتے ہیں اور یہ چیز درست نہیں۔جب انہیں ڈانٹا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہمیں اور بہت سے کام ہیں۔دنیا میں حکومتوں نے ایڈ منسٹریشن کے لئے مختلف قانون بنائے ہیں اور یہ قانون بڑی بڑی ایمپائرز نے بڑے تجربہ کے بعد بنائے ہیں۔ان قوانین میں سے ایک اہم قانون یہ ہے کہ کارکن اپنے کام کی رپورٹ ضرور دے۔وہ کام بے شک چھوڑ دے لیکن رپورٹ بھیجنے میں کو تاہی نہ کرے۔کام مقدم نہیں رپورٹ بھیجنا مقدم ہے۔اگر تم رپورٹ بھیجتے ہو اور کام کچھ نہیں کرتے تو ہم تم سے جواب طلبی کریں گے۔اور اگر رپورٹ نہیں بھیجو گے تو تم کام چاہے کتنا بھی کر دوہ کام ہماری نظروں میں بیکار ہوگا۔اگر مرکز کو علم ہی نہیں کہ تم کیا کام کر رہے ہو تو وہ ہدایت کیسے بھیج سکتا ہے۔رپورٹ بھیجو گے تو وہ تمہارے کاموں کا جائزہ لے سکے گا۔اور اگر تم کوئی غلط کام کر رہے ہو تو وہ تمہاری اصلاح کر سکے گا۔پس تمہارا کام سبھی مفید ہو سکتا ہے جب تم جہاں جاؤ اپنے کام کی رپورٹ باقاعدہ بھیجتے رہو۔پھر رپورٹ اس قسم کی نہ ہو کہ میں فلاں سے ملا ، فلاں سے یہ گفتگو کی۔فلاں کو میں نے اپنے پاس بلایا۔بلکہ اپنی رپورٹ میں ملک کا جغرافیہ اور تاریخ لکھو۔اس کے سیاسی حالات لکھو۔پھر لکھو کہ ان حالات میں تبلیغ کا کام کیسے ہو رہا ہے۔یہ نہیں کہ میں فلاں گاؤں گیا۔وہاں ایک دن ٹھہرا۔تقریر کی اور واپس آ گیا۔بلکہ تمہاری رپورٹ میں مذکورہ بالا تمام پوائنٹس آنے چاہئیں کہ فلاں جگہ اس رنگ میں تقریر کی گئی اور فلاں پوائنٹ کی وضاحت کی گئی۔اسی طرح مضامین لکھو اور ملک میں شور مچادو۔قوم وار تبلیغ کرو اور اپنے کام کی با قاعدہ رپورٹ بھیجتے رہو۔تا مرکز تمہاری رپورٹ کے مطابق تمہیں اپنی ہدایات بھیج سکے۔“ (الفضل 5،4 فروری 1961ء) 1: إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًان (النصر : 2 ،3)