زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 367
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 367 جلد دوم کوشش کرو کہ دین کی خاطر وطنوں کو خیر باد کہنے اور روحانی نو آبادیاں قائم کرنے کا جذ بہ تمہارے اندر نسلاً بعد نسل زندہ رہے 14 جنوری 1956ء اساتذہ و طلباء جامعتہ المبشرین کی طرف سے مکرم مولوی محمد شریف صاحب مبلغ فلسطین کی آمد اور مکرم مولوی محمد احمد جلیل صاحب استاذ جامعہ کی جامعہ سے دفتر تفسیر القرآن روانگی پر ان کے اعزاز میں دعوت دی گئی جس میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے بھی شرکت فرمائی۔اس موقع پر حضور نے تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد جو خطاب فرما یا اس کا خلاصہ حسب ذیل ہے:۔وو مولوی محمد شریف صاحب سالہا سال تک اپنے والدین اور عزیز و اقارب سے جداره کر غیر ممالک میں تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کرتے رہے ہیں۔انہوں نے اپنے وطن ، گھر بار اور عزیز و اقارب سے یہ طویل جدائی خدمت دین کے لئے برداشت کی۔جو حالات ان کو پیش آئے ہیں ان میں سے گزرنے کے لئے ہر ایک کو تیار رہنا چاہئے۔کیونکہ ان چیزوں سے جدائی اختیار کئے بغیر دنیا میں دین کی اشاعت نہیں ہو سکتی۔اس موقع پر حضور نے اپنا ایک رؤیا بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جو قوم دنیا میں باہر نکلنے اور نو آبادیاں قائم کرنے کا شدید اشتیاق رکھتی ہے وہ کبھی تباہ نہیں ہوتی۔حضور نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک ہم میں یہ سپرٹ قائم رہے گی کہ ہم خدمت دین کی خاطر اپنے وطنوں کو خیر باد کہنے میں رضا بالقضاء کا نمونہ دکھائیں اور تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کر کے دنیا میں روحانی نو آبادیاں قائم کرتے چلے جائیں اُس وقت تک خدا کی تائید و نصرت اور