زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 341
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 341 جلد دوم نے ابتدا میں ہمیں اس جزیرہ میں بڑی کامیابی عطا فرمائی تھی۔مگر اب ہمیں چھپیں سال سے وہ ترقی ختم ہو چکی ہے اور شاذ و نادر ہی کسی بیعت کی اطلاع آتی ہے۔چنانچہ خود ان کے بیان کے مطابق 1923 ء سے لے کر اب تک صرف 19 بیعتیں ہوئی ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ در حقیقت اس ذمہ داری کا احساس تازہ نہیں رکھا گیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عائد کی گئی تھی۔حالانکہ اس ذمہ داری کا احساس آدم میں ہی نہیں بلکہ آدم کی اولاد میں بھی ہونا چاہئے۔میں یہ نہیں کہتا کہ مبلغ میں کمزوری پیدا ہوگئی تھی بلکہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مبلغ کی روحانی اولاد میں کمزوری پیدا ہو گئی۔انہیں کبھی یہ بتایا ہی نہیں گیا کہ تم نے اس خطہ میں پھیلنا ہے، تم نے اس علاقہ کی دوسری نسلوں کو روحانی طور پر ختم کرنا ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی ترقی رک گئی۔اب ان کو چاہئے کہ وہاں جا کر لوگوں کے اندر ایک نئی روح پیدا کریں۔ماریشس ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جس کو فتح کر لینا کوئی بڑی بات نہیں۔لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں میں ایک آگ پیدا کی جائے ، ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے۔اور ہر احمدی مرد اور عورت کے دل میں یہ جذبہ پیدا کیا جائے کہ ہم نے تمام علاقہ کو اسلام اور احمدیت کے لئے فتح کرنا ہے۔پھر مبلغ کی بعض دفعہ بہت سی طاقت اس لئے بھی ضائع چلی جاتی ہے کہ عورتوں کی تبلیغ اور ان کی تعلیم کے سلسلہ میں اس کا کوئی ہاتھ بٹانے والا نہیں ہوتا۔مگر خوش قسمتی سے ان کی بیوی جو ان کے ساتھ جا رہی ہیں وہ ایک مخلص اور علم والی عورت ہیں۔پس اب کم سے کم ایک ایسا ہتھیار ان کے پاس موجود ہے جو ہمارے پہلے مبلغوں کے پاس نہیں تھا۔حافظ صوفی غلام محمد صاحب کی بیوی بھی تعلیم یافتہ تھیں۔بخاری تک انہوں نے پڑھی ہوئی تھی۔مگر تبلیغ کا ان میں اتنا مادہ نہیں تھا اور پھر وہ تقریر بھی نہیں کر سکتی تھیں۔ان کی طبیعت میں حیا کا مادہ زیادہ تھا۔خواہ ہم اسے غلط ہی قرار دیں مگر حافظ بشیر الدین صاحب کو خدا تعالیٰ نے یہ ایک زائد طاقت بخشی ہے کہ ان کی بیوی علم بھی رکھتی ہیں اور اس کو بیان کرنے کا بھی انہیں شوق ہے۔چنانچہ ان کے کئی اچھے اچھے مضامین چھپ چکے ہیں۔یہ ایک زائد چیز