زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 340

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 340 جلد دوم جب آدم کو خدا تعالیٰ نے پیدا کیا تو پہلی نسلیں ساری کی ساری ختم ہو گئیں۔قرآن کریم کہتا ہے کہ جب آدم پیدا ہوا تو اُس وقت دنیا پر اور نسلیں بھی آباد تھیں۔تم ان کا نام جن رکھ لو، بھوت رکھ لو، پریت رکھ لو، شیطان رکھ لو، ابلیس رکھ لو۔بہر حال کوئی نہ کوئی مخلوق تھی جس نے آدم سے بحث کی۔مگر آج وہ میرے ساتھ کیوں بحث نہیں کرتی۔تمہیں مانتا پڑے گا کہ جب آدم پیدا ہوا تو آہستہ آہستہ وہ نسلیں جنہوں نے آدم کو نہیں مانا دنیا سے مٹ گئیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے دنیا کو آدم کے لئے پیدا کیا تھا۔جب مالک آ گیا تو غاصب بھاگ گیا۔اب اس کا اس دنیا کے ساتھ کیا تعلق تھا۔پس جب ایک مبلغ کسی ملک میں بھیجوایا جاتا ہے تو اسے اس یقین اور وثوق کے ساتھ اس ملک میں اپنا قدم رکھنا چاہئے کہ اسے اس ملک کے لئے آدم بنا کر بھیجوایا گیا ہے۔اب ظلماتی طاقتیں اس ملک میں باقی نہیں رہ سکتیں۔وہ مٹا دی جائیں گی ، وہ فنا کر دی جائیں گی اور صرف اس کی جسمانی یا روحانی نسل ہی اس ملک میں باقی رہے گی۔جب اس نیت اور ارادہ کے ساتھ کوئی شخص جائے تو وہ کس طرح اس بات پر خوش ہو سکتا ہے کہ چالیس یا پچاس آدمیوں نے بیعت کر لی ہے۔وہ تو اُس وقت تک خوش نہیں ہو سکتا جب تک سارے ملک کو تہس نہیں نہ کر دے، جب تک چپے چپے پر آدم کی نسل کو نہ پھیلا دے۔ورنہ وہ آدم کس طرح ہے؟ وہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت کا بیج کس طرح ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے مبلغ یہ نیت اور ارادہ لے کر نہیں جاتے۔یہ آگ اپنے سینہ میں لے کر نہیں جاتے کہ ہم نے دنیا کے ایک ایک فرد کو اپنے اندر شامل کرنا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے دلوں میں وہ گرمی پیدا نہیں ہوتی جو انسان کو کام کرنے پر آمادہ کر دیا کرتی ہے۔جو کفر کو جلا کر بھسم کر دیا کرتی ہے۔وہ تو اس پر خوش ہو جاتے ہیں کہ ہمارے ذریعہ سے دس ہیں یا سو آدمی نجات پاگئے۔حافظ بشیر الدین صاحب جو اس وقت ماریشس جا رہے ہیں جیسا کہ انہوں نے بتایا ہے ان کے والد اسی علاقہ میں کام کرتے رہے ہیں اور آخر کام کے دوران میں ہی وہ شہید ہو گئے۔آج صبح جب یہ میری ملاقات کے لئے آئے تو میں نے انہیں بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ