زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 335
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 335 جلد دوم ریاست کے ایک معمولی سے مکان کو بھی گرانے کی طاقت نہیں رکھتے۔کیونکہ وہ ایک زندہ ریاست ہوتی ہے۔تم نپولین کا مکان گرا دو تمہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔تم تیمور کے مکان کو گرا دو تو تمہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔لیکن تم ایک چھوٹی سے چھوٹی ریاست کی طرف بھی اپنی انگلی نہیں اٹھا سکتے۔شملہ کے اردگرد بعض چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہیں جن کے وزیر اعظم پندرہ میں روپے ماہوار تنخواہ لیتے ہیں اور ساری ریاست کی آمدن سینکڑوں سے شمار کی جاسکتی ہے۔پھر ایک ہی شخص وہاں وزیر اعظم ہوتا ہے۔وہی انسپکٹر جنرل پولیس ہوتا ہے۔وہی سپر نٹنڈنٹ پولیس ہوتا ہے اور وہی تھانیدار ہوتا ہے۔میں ایک دفعہ شملہ گیا تو دوستوں نے سنایا کہ ریاست میں بعض لوگوں کی آپس میں لڑائی ہوگئی اور ان میں سے ایک فریق نے بعض ایسے لوگوں کے نام بھی گواہ کے طور پر لکھوا دیئے جو گورنمنٹ سروس میں کام کرتے تھے اور شملہ میں ملازم تھے۔ریاست نے ان کے نام بھی سمن جاری کرایا اور انہیں ان سمنوں کی تعمیل کے لئے وہاں بار بار جانا پڑتا۔ان کے افسر ناراض ہوتے کہ تم نے یہ کیا مصیبت مول لے لی ہے۔دفتر میں کام نہایت ضروری ہے اور تم آئے دن باہر چلے جاتے ہو۔مگر وہ بھی مجبور تھے گورنمنٹ کے معاہدہ کے مطابق انہیں جانا پڑتا تھا۔آخر کسی نے انہیں بتایا کہ تم دو دو روپے راجہ کی نذر کر دو وہ تمہیں اس مصیبت سے نجات دلا دے گا۔چنانچہ انہوں نے اسی طرح کیا۔انہوں نے دو دو روپے راجہ صاحب کی نذر کئے اور اس نے انہیں گواہوں میں سے نکال دیا۔غرض اتنی چھوٹی سی وہ ریاست تھی کہ اس کا راجہ دو روپے لے کر خوش ہو گیا۔لیکن اس چھوٹی سی ریاست کی ایک چھوٹی سی عمارت کو گرانے کی بھی اگر کوئی شخص کوشش کرے تو ریاست کی پولیس اس کے مقابلہ کے لئے کھڑی ہو جائے گی۔لیکن تیمور کا مکان اگر آج کوئی شخص گرا دے، سکندر کا مکان اگر کوئی گرا دے تو ان کی حفاظت کرنے والا کوئی شخص نہیں ہوگا۔پس خدا تعالیٰ کی بادشاہت جب تک دنیا میں رہتی ہے اُس وقت تک اس کے آثار کی حفاظت کے لئے آسمانی فوجیں اتاری جاتی ہیں۔اور جب وہ مٹ جاتی