زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 336
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 336 جلد دوم ہے تو کوئی فوج مقابلہ کے لئے کھڑی نہیں ہوتی۔یہی وہ مرکزی نقطہ ہے جس سے مذہب کی سچائی دنیا میں قائم ہوتی ہے۔اگر ہم اس مرکزی نقطہ کو سمجھنے کی کوشش کریں تو مذہب کے معاملہ میں ہم ہر قسم کی ٹھوکروں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ہر زندہ چیز اپنی زندگی کے آثار سے پہچانی جاسکتی ہے۔اور زندگی کے آثار بدلتے نہیں۔ایک مشین جو انسانی ہاتھوں سے بنائی جاتی ہے اس کے پرزے بدلتے رہتے ہیں لیکن انسانی مشین جو آدم کے وقت میں بنائی گئی آج بھی اسی طرح چلتی ہے جس طرح آدم کے وقت میں چلا کرتی تھی۔اسی طرح جب تک کوئی مذہب زندہ ہے اُس وقت تک آدم سے لے کر محمد رسول اللہ یہ تک جو خصوصیات کسی زندہ مذہب میں پائی جاتی رہی ہیں وہ اس میں بھی پائی جائیں گی۔اور جب تک وہ زندہ رہے گا اُس وقت تک اسے دشمن کے حملوں سے بچانے کے لئے خدا تعالیٰ کی فوجیں آسمان سے اترتی رہیں گی۔اور اگر وہ مر جائے تو خدا تعالیٰ کی مدد اور اس کی نصرت بھی ختم ہو جائے گی۔بہر حال جب تک کوئی مذہب زندہ ہے کسی انسان کے لئے فکر کی کوئی بات نہیں کیونکہ مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ حَقٌّ لَا يَمُوتُ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ انسان تو بے شک مر جاتے ہیں مگر جو لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں چونکہ خدا تعالیٰ زندہ ہے اس لئے وہ بھی خدا تعالیٰ میں ہو کر زندہ ہو جاتے ہیں۔تب ان پر بھی جو لوگ حملہ کریں خواہ وہ سویا ہزار سال کے بعد کریں خدا تعالٰی کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔رسول کریم ﷺہے آج دنیا میں نہیں مگر چونکہ آپ خدا تعالیٰ کی ذات سے وابستہ ہو چکے تھے اور خدا تعالیٰ ہمیشہ ہمیش کے لئے زندہ ہے اس لئے آپ کی ہتک کرنے والا آج بھی خدائی گرفت سے نہیں بیچ سکتا۔جب آتھم کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مقابلہ کیا تو اُس وقت آپ نے اسے یہی فرمایا تھا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ تم پر عذاب نازل ہوگا کیونکہ تم نے رسول کریم ﷺ پر حملہ کیا ہے۔حالانکہ اُس وقت رسول کریم ﷺ کی وفات پر تیرہ سو سال گزر چکے تھے مگر چونکہ آپ کا تعلق خدا تعالٰی سے تھا اس لئے آپ کبھی زندہ ہو گئے۔اور