زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 331
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 331 جلد دوم معلوم کریں۔مگر ہمیں بتایا یہ جاتا ہے کہ آپ کا رنگ ایسا تھا ، آپ کا قد ایسا تھا ، آپ کی زلفیں ایسی تھیں، آپ کی آنکھیں ایسی تھیں حالانکہ ہمیں اس سے کیا کہ محمد رسول اللہ ہے صلى الله کا رنگ کیسا تھا۔آپ کا قد چھوٹا تھا یا بڑا۔یہ باتیں تو دنیوی محبتوں میں ہوا کرتی ہیں اور ہم دنیوی محبت کے لئے نہیں بلکہ روحانی فیوض کے حصول کے لئے جاتے ہیں۔کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ہم کو آپ کے رسول کے متعلق ایسی معلومات کہاں سے حاصل ہو سکتی ہیں؟ میں نے اسے بتایا کہ ہم تو ان باتوں کے قائل ہی نہیں اور ہم تو دنیا کو وہی باتیں بتاتے ہیں جو تم چاہتے ہو۔حقیقت یہ ہے کہ حکومت دنیا میں خدا تعالیٰ کی ہے اور انسان خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے دنیوی دفاتر میں ایک شخص چارج دیتا ہے اور دوسرا چارج لیتا ہے۔جب تک حکومت زندہ ہوتی ہے کوئی شخص بھی چارج لے کام چلتا چلا جاتا ہے۔اور جب حکومت مرجاتی ہے تو پھر بڑے سے بڑا اور لائق سے لائق آدمی بھی چارج لے تو کام نہیں چلتا۔پس جب تک خدا تعالیٰ کی بادشاہت کو قائم رکھنے کی لوگ کوشش کرتے ہیں اُس وقت تک جہاں تک کام کے چلانے کا سوال ہے کسی آدمی کے آنے جانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔لیکن جب خدا تعالیٰ کی بادشاہت بنی نوع انسان کے گناہوں کی وجہ سے دنیا سے سمیٹ لی جاتی ہے جب خدا تعالیٰ کے سایہ کو پیچھے کھینچ لیا جاتا ہے اُس وقت یہ تغیر بڑا بھاری معلوم ہوتا ہے۔لوگ کہتے ہیں وہ آدمی گیا اور یہ آیا اس لئے خرابی پیدا ہوئی۔حالانکہ خرابی اس لئے پیدا ہوئی کہ خدا تعالیٰ نے اپنی بادشاہت دنیا سے اٹھا لی۔ایک پولیس مین اور دوسرے آدمیوں میں کیا فرق ہوتا ہے؟ سپاہی یا پولیس مین کو کوئی خاص طاقت حاصل نہیں ہوتی۔صرف اس کے پیچھے یہ رعب کام کر رہا ہوتا ہے کہ حکومت اس کی پشت پر کھڑی ہے۔ورنہ پچاس کے مقابلہ میں بعض دفعہ ایک آدمی بھی کھڑا ہو جائے تو وہ انہیں شکست دے دیتا ہے۔لیکن اس کے سامنے ایک کمزور سا کانسٹیبل بھی آجائے تو وہ کانپنے لگ جاتا ہے۔کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ حکومت کو مارنے کی اس میں طاقت نہیں۔یہ مارا جائے گا تو دوسرا