زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 330

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 330 مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتُ فَعَلَيْكَ كُنتُ أَحَاذِرُ 1 جلد دوم اے محمد رسول اللہ ! تو تو میری آنکھ کی پتلی تھا۔آج تیرے مرجانے سے میری آنکھ اندھی ہوگئی۔اب جو چاہے مرے میں تو تیری ہی موت سے ڈرتا تھا۔ہم اس بات سے الله انکار نہیں کر سکتے کہ حضرت حسان رسول کریم ﷺ سے محبت رکھتے تھے۔مگر اسی روح عالم کی وفات پر ابو بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمُ عَلَى أَعْقَابِكُمْ 2 پھر وہ کہتا ہے مَنْ كَانَ مِنْكُمُ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللهَ حَيٌّ لَّا يَمُوتُ 3 ایک کہتا ہے کہ یہ افسر چلا گیا اب سب کا رخانہ بگڑ جائے گا۔دوسرا کہتا ہے خدا تعالیٰ کی بادشاہت میں ایک افسر جاتا ہے اور دوسرا آتا ہے خدا تعالیٰ کی بادشاہت ہمیشہ سے قائم ہے اور ہمیشہ قائم رہے گی۔کون کہہ سکتا ہے کہ ابو بکر کی محبت حسان کی محبت سے کم تھی۔ہمیں دیکھنا چاہئے کہ کیا ستان کو رسول کریم ہے صلى الله سے زیادہ محبت تھی یا ابو بکر کو رسول کریم ماہ سے زیادہ محبت تھی۔ہم برا تو کسی نقطہ نگاہ کو نہیں کہہ سکتے لیکن اگر حسان کو رسول کریم ﷺ سے زیادہ محبت تھی تو پھر نقطہ نگاہ حسان کا صلى الله زیادہ اعلیٰ تھا۔اور اگر ابو بکر کو رسول کریم ماہ سے زیادہ محبت تھی تو پھر نقطہ نگاہ ابوبکر کا زیادہ اعلیٰ تھا۔اور میں سمجھتا ہوں کہ کوئی مسلمان ایسا نہیں ہو سکتا جسے اس فیصلہ میں تردد ہو کہ ان دونوں میں سے کس کا نقطہ نگاہ زیادہ اعلیٰ تھا۔پس محبت اسی کی ہے جس کو اس کام سے محبت ہے جس کے لئے اس کا محبوب دنیا میں آیا۔جس کو اس کام سے محبت نہیں بلکہ صرف شخص سے محبت ہے وہ جھوٹی محبت کرنے والا ہے۔میں ایک دفعہ ایک جگہ گیا اور ایک ہندو رئیس مجھ سے ملنے کے لئے آیا۔اس نے کہا یہ بات میری سمجھ میں کبھی نہیں آئی کہ مسلمان ہمارے سامنے کیا پیش کرتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے حالات زندگی سنیں اور آپ کی خوبیاں اور فضائل کو