زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 329

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 329 جلد دوم کوئی خاص زیادتی ہوتی ہے۔اگر اسی روح سے ہم دنیا کی زندگی کو دیکھیں تو شاید بہت سے امور جو اس وقت تشویش کا موجب ہو جاتے ہیں وہ ہمارے لئے یہ رنگ نہ رکھیں۔لیکن مشکل یہ ہے کہ چونکہ وہ دنیا جہاں سے انسان آتا ہے اور وہ دنیا جس طرف انسان جاتا ہے نظر نہیں آتی اس لئے لوگوں کی نظروں سے وہ دن بھی اوجھل رہتا ہے جس دن انہوں نے دنیا سے جاتا ہے۔اور وہ کیفیت بھی اوجھل رہتی ہے جو اس آنے جانے کے پیچھے ہوتی ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس طرح تیار نہیں ہوتے جس طرح سفروں کے لئے تیار ہوتے ہیں۔اور آنے والے بھی دنیا کے لئے گھبراہٹ کا موجب بن جاتے ہیں اور جانے والے بھی دنیا کے لئے گھبراہٹ کا موجب بن جاتے ہیں۔آنے والے کم اور جانے والے زیادہ۔یا یوں سمجھ لو کہ دنیا کی مثال ایسی ہی ہے جیسے دفاتر میں آفیسر ز آتے جاتے ہیں۔بعض دفعہ جب ایک افسر بدلتا ہے اور اس کے اعزاز میں لوگ پارٹیاں دیتے ہیں تو ان کی تقریریں سن کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس افسر کے جانے کے بعد دفتر بالکل اجر جائے گا اور اس کے بعد کوئی کام نہیں ہو سکے گا۔لیکن پھر نیا افسر آتا ہے اور کام اسی طرح چلتا چلا جاتا ہے۔بے شک بعض دفعہ کسی خاص حصہ میں کمی بھی آجاتی ہے لیکن پھر بھی کام رکتا نہیں اور وہ برابر ہوتا چلا جاتا ہے۔اگر اسی چیز کو لوگ مد نظر رکھیں تب بھی وہ سمجھ سکتے ہیں کہ انہیں اس دنیا کو اپنے لئے ایسا ہی سمجھنا چاہئے جیسے مختلف محکموں میں تبادلے ہوتے ہیں۔کچھ لوگ اگلے جہان میں چلے جاتے ہیں اور کچھ نئے پیدا ہوتے ہیں۔اگر اس معیار کو دنیا قائم رکھے تب بھی خرابی پیدا نہ ہو۔مگر اس دنیا کے کاروبار میں خصوصاً اخلاقی اور مذہبی کا روبار میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں کی افراد کے ساتھ وابستگی بہت زیادہ نمایاں ہوتی ہے اور کام کے ساتھ وابستگی بہت کم ہوتی ہے۔رسول کریم ﷺ جب وفات پا گئے تو حضرت حسان بن ثابت نے کہا كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِـى عَلَى النَّاظِرُ