زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 328
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 328 جلد دوم موت آدمیوں کے مرنے کا نام نہیں بلکہ موت خدا تعالیٰ کی بادشاہت کے دنیا میں قائم نہ ہونے کا نام ہے۔جماعت احمدیہ کے مبلغین کو سمجھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک نئی دنیا کا آدم بنایا ہے کیم جون 1951 ء بعد نماز عصر وکالت تبشیر نے مکرم جناب حافظ بشیر الدین صاحب واقف زندگی مبلغ ماریشس کے اعزاز میں ایک دعوت چائے دی۔جس میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے بھی شرکت فرمائی۔اس موقع پر حضور نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل تقریر فرمائی:۔دنیا میں لوگ آتے بھی ہیں اور جاتے بھی ہیں۔دنیا کی مثال در حقیقت ایک اسٹیشن کی کی طرح ہوتی ہے۔جب گاڑی آتی ہے تو کچھ لوگ اتر جاتے ہیں اور کچھ سوار ہو جاتے ہیں۔اور اسٹیشنوں پر اِلَّا مَا شَاء اللہ اگر کوئی خاص واقعہ نہ ہو تو لوگ ہنستے ہنستے اترتے ہیں اور ہنستے ہنستے گزر جاتے ہیں۔چینیں مار مار کر روتے ہوئے یا افسوس کے ساتھ ہاتھ ملتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا جاتا۔سوائے اس کے کہ کسی کا کوئی اکلوتا بچہ کسی دور دراز ملک میں جا رہا ہو اور اس کی واپسی کا خیال نہ ہو۔مگر وہاں بھی حوصلہ مند انسان سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھے۔بہر حال عام طور پر جو اسٹیشنوں کی حالت ہوتی ہے وہی دنیا کی حالت ہے۔کچھ لوگ آ رہے ہیں اور کچھ جا رہے ہیں۔نہ جانے والوں سے دنیا کی آبادی میں کوئی کمی آتی ہے اور نہ آنے والوں سے اس کی آبادی میں