زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 324

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 324 جلد دوم ہیں کہ ہم صحابہ کے مثیل ہیں، ہم جن کی زبانیں یہ بات کہتے ہوئے خشک ہوتی ہیں کہ ہم نے خلافت کا احیاء کر دیا ہے اور اسلام کو دوبارہ قائم کیا ہے ہماری یہ حالت ہے کہ حضرت ابو بکر تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یہ کہتے ہیں کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو منسوخ نہیں کر سکتا لیکن ہم اپنے اجلاس میں ہی یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ جو فیصلہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے کیا تھا ہم اسے منسوخ کرتے ہیں۔بے شک ڈاکٹری اور وکالت کی لالچ زیادہ ہے مگر ایمان کی لالچ اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔اس پر وہی جماعت جو سرڈھن رہی تھی اور کہہ رہی تھی ٹھیک ہے ٹھیک ہے مدرسہ احمدیہ توڑ دیا جائے اور لڑکوں کو وظائف دے کر ڈاکٹر اور وکیل بنایا جائے یوں معلوم ہوا کہ وہ سوتے سوتے جاگ اٹھے ہیں۔یا تو وہ اُن کی باتوں سے اتفاق کر رہے تھے یا ان کی آنکھوں سے شرارے نکلنے شروع ہوئے۔خواجہ صاحب بڑے کا یاں آدمی تھے وہ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا میں نے بھی تو یہی کہا تھا کہ اب اس مضمون کو بند کر دیا جائے۔آئندہ تحریر کے ذریعہ معلوم کیا جائے کہ جماعت کی اس بارے میں کیا رائے ہے۔چنانچہ خط میں بھی انہوں نے یہی مضمون لکھا اور مجھے یاد ہے کہ دو جماعتوں کے سوا باقی سب نے یہی کہا کہ مدرسہ احمدیہ کو نہ توڑا جائے۔ہم تو شوریٰ کے موقع پر ہی یہ فیصلہ کر آئے تھے اب دوبارہ کیا ضرورت ہے۔غرض ہماری جماعت پر نازک دور آئے اور بڑی عمر کے لوگوں نے سکول جاری رکھنے یا بند کرنے کے سوال پر ٹھو کر کھائی اور کہا اسے بند کر دو لیکن اشرف المخلوقات انسان کی نسل میں سے ایک نوجوان نے کہا ایسا ہر گز نہیں ہوگا۔ہم سکول بند نہیں ہونے دیں گے اور جماعت کو نئے سرے سے مضبوط بنائیں گے۔اور اُس نے ثابت کر دیا کہ انسانوں میں سے بھی ایسے لوگ ہیں جو شہد کی مکھی سے کم نہیں۔اور پھر یہی نظارہ دوبارہ مدرسہ احمدیہ کے بند کرنے کے متعلق نظر آیا۔پھر انسان نے چھتہ میں سے شہد نکال کر اُسے بیکار کرنے کی کوشش کی اور پھر مکھیوں کو بے گھر بنانے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھانا شروع کیا۔پھر دوبارہ بنی نوع انسان