زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 323
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 323 جلد دوم سارا عرب باغی ہو گیا اور صرف مکہ اور مدینہ میں اسلامی حکومت باقی رہ گئی۔حضرت ابو بکر پہلے خلیفہ مقرر ہوئے۔آپ نے حکم دیا کہ یہ لشکر روما کی طرف روانہ ہو اور حضرت اسامہ سے صرف اتنا کہا کہ اگر اجازت دو تو عمرؓ کو میں اپنے پاس رکھ لوں تا وہ میرے مشیر کار ہوں۔انہوں نے اجازت دے دی اور حضرت عمر مدینہ میں رہ گئے۔روما کی حکومت اُس کی وقت آدھی دنیا پر حکمران تھی اور بظاہر حالات لشکر کا بیچ کر آ جانا ناممکن نظر آتا تھا۔بعض صحابہ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ سارا عرب باغی ہو چکا ہے اگر یہ لوگ بھی چلے گئے تو دشمن آگے بڑھتا چلا آئے گا اور اسے روکنے والا مدینہ میں کوئی شخص نہیں ہوگا۔چنانچہ صحابہ کا ایک وفد حضرت ابو بکر کے پاس آیا اور کہا کہ آپ اس لشکر کو روک لیجئے پہلے یہ باغیوں اور مرتدوں کے ساتھ لڑے اور جب وہ انہیں شکست دے دے تو باہر بھیجا جائے۔حضرت ابو بکر نے جواب دیا کہ خدا تعالیٰ کے رسول نے ایک لشکر تیا ر کیا تھا اور فرمایا تھا کہ میں تندرست ہونے پر سب سے پہلا موقع ملنے پر اس لشکر کو روانہ کروں گا۔پھر وہ فوت ہو گیا اور خدا تعالیٰ نے اس کی خلافت مجھے عطا فرمائی۔اب کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں اُس کا خلیفہ اور قائم مقام ہو کر سب سے پہلا کام یہ کروں کہ اُس نے جو حکم دیا تھا اُسے منسوخ کر دوں ؟1 کیا یہ خلافت ہوگی یا تردید؟ صحابہ خاموش ہو گئے اور وہ لشکر روانہ ہو گیا۔حضرت ابوبکر کو خدا تعالیٰ نے بغیر فوجوں کے فتح دی اور لشکر بھی کامیاب و کامران واپس آیا۔میں نے کہا ہم حدیثوں میں یہ پڑھا کرتے تھے اب پھر خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کی بری حالت اور ان کی ناکامیوں اور نامرادیوں کو دیکھ کر اپنا ایک مامور مبعوث فرمایا اور وہ ما مور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شکل میں ظاہر ہوا۔اس نے جماعتی مشکلات کو دیکھتے ہوئے مدرسہ احمد ہوئے مدرسہ احمدیہ قائم کیا او رخود ایک شوری بلا کر اس بات کا اظہار کیا اور دو بزرگوں مولوی عبدالکریم صاحب اور مولوی برہان الدین صاحب کی طرف اسے منسوب کیا کہ ان کی یاد گار قائم رکھنے کے لئے اس سکول کو قائم کیا گیا ہے تا ایسے لوگ آئندہ بھی جماعت میں تیار ہوتے رہیں۔میں نے کہا ہم جن کی زبانیں یہ بات کہتے ہوئے خشک ہوتی