زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 325
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 325 جلد دوم میں سے ایک نوجوان کو خدا تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی کہ وہ اس کی حفاظت کرے۔اور اُس نے کہا کہ ہم اپنے اس گھر کو اجڑنے نہیں دیں گے بلکہ ہم اسے اور زیادہ مضبوط بنائیں گے۔یہ تو مکھی والا معجزہ ہوا۔لیکن اس کا ایک دوسرا پہلو بھی تھا کہ اگر ایک قوم کی نوجوان پود اسی قسم کے معجزے دکھانے پر قادر ہوئی تو کیا اُدھیڑ عمر والے یا اُدھیڑ عمر سے زیادہ عمر والے لوگ بھی اس قسم کا معجزہ دکھا سکتے ہیں جو وہ جوانی میں دکھا سکتے تھے۔شہد کی مکھی نے ہمیشہ یہ معجزہ جوانی میں دکھایا ہے اور بہت سی قو میں یہ معجزہ دکھانے میں بھی نا قابل ثابت ہوئی ہیں۔بہت کم نوجوان ایسے ہیں جنہوں نے انسانوں میں سے ایسا کام کر کے دکھایا ہے لیکن جماعت احمدیہ کے ایک فرد نے یہ معجزہ دو دفعہ دکھایا۔مگر خدا تعالی یہ بتانا چاہتا تھا کہ وہ انسان جسے میں نے اشرف المخلوقات قرار دیا ہے شہد کی مکھی جیسا معجزہ نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر بھی معجزہ دکھا سکتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے مجھے زندہ رکھا یہاں تک کہ مخالفین کا ہاتھ ایک دفعہ اور چھتہ کی طرف بڑھا اور اس دفعہ بڑی سختی کے ساتھ بڑھا۔دشمن نے قادیان میں جمع ہوئی ہوئی مکھیوں کو تباہ کرنا چاہا اور ان کی کے چھتہ کو بیکار کرنا چاہا۔قرآن کریم نے کلام الہی کو شہد سے تشبیہہ دی ہے۔قادیان میں کلام الہی کی خاطر جمع ہونے والی مکھیوں کو دشمن نے ان کے چھتہ سے بے دخل کر دیا اور انہیں اڑا دیا۔شہد کی مکھیوں کا یہ معجزہ ہے کہ ان کی ولی عہد یعنی ملکہ کی سب سے بڑی لڑکی اپنی رعایا میں سے بعض مکھیوں کو لے کر دوسرا گھر بنا لیتی ہے۔وہ اپنا دوسرا مرکز قائم کر لیتی ہے مگر اب کی دفعہ انسان نے وہ معجزہ دیکھا جس کی مثال لکھی کا چھتہ نہیں دکھا سکتا۔جماعت کے اُسی فرد نے جس نے نوجوانی کی حالت میں شہد کی مکھیوں والا معجزہ دکھایا تھا اُس نے اُدھیڑ عمر سے بھی گزر کر دشمن کو چیلنج کیا کہ ہم اپنا گھر اجڑنے نہیں دیں گے ہم اپنا نیا چھتہ بنائیں گے اور دکھا دیں گے کہ ہمارے عزم کا مقابلہ کرنے والی اور کوئی قوم نہیں۔اور تم یہ نظارہ دیکھ رہے ہو، منزلیں گزرتی جاتی ہیں اور سفر ایک ہی پرواز میں طے