زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 275

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 275 جلد دوم آیا حج کرنے کی پوری آزادی ہے یا نہیں ؟ آیا اتنے ہی لوگ حج کے لئے آتے ہیں جتنے پہلے آتے تھے ؟ اور اگر آتے ہیں تو کس راستے سے آتے ہیں؟ نہ ہبی تعلیم کے مدارس اب بھی موجود ہیں یا نہیں؟ اگر ہیں تو بڑے بڑے مدارس کس کس شہر میں ہیں؟ اور کتنے کتنے طلبا ان میں پڑھتے ہیں؟ ان کے اساتذہ کو تنخواہیں کون دیتا ہے؟ آیا بخارا کے لوگوں کی روٹی، کپڑا، رہائش تعلیم اور علاج کی ذمہ دار حکومت ہے یا لوگ اپنے طور پر گزارہ کرتے ہیں؟ اگر حکومت ذمہ دار ہے تو کیا راشن کا طریق سارے ملک میں جاری ہے یا کوئی اور طریق ہے؟ اگر ایسا کوئی طریق جاری ہے تو فی کس کس حساب سے غلہ یا کپڑاگورنمنٹ دیتی ہے؟ آیا جس حساب سے بخارا میں غلہ یا کپڑا دیا جاتا ہے اسی حساب سے یورپین روس میں بھی دیا جاتا ہے یا کم و بیش ؟ علاج کے لئے حکومت نے کیا انتظام کر رکھا ہے؟ آیا ویسے ہی وسیع ہسپتال ایشیائی اسلامی علاقوں میں بنائے گئے ہیں جیسے یورپین ایشیا کی علاقوں میں؟ زمین زمیندار کی سمجھی جاتی ہے یا حکومت کی؟ زمیندار کے باپ کا ورثہ اولاد میں تقسیم ہوتا ہے یا نہیں ؟ اگر مرنے والے کی زمین کم ہو اور اولاد زیادہ ہو اور اولادزمین پر گزارہ نہ کر سکے تو حکومت نے اس کے لئے کوئی انتظام کیا ہے یا نہیں؟ تجارتیں بدستور افراد کے ہاتھ میں ہیں یا سب یا بعض تجارتیں حکومت کے قبضہ میں ہیں؟ کوئی بینک ان علاقوں میں جاری ہیں یا نہیں؟ اگر جاری ہیں تو وہ بینک افراد کے ہیں یا حکومت کے؟ اور اگر جاری نہیں تو کسی شخص کو اگر قرض لینے کی ضرورت پیش آ جائے تو وہ اس کے لئے کیا انتظام کرتا ہے؟ کیا اس ملک میں گداگری جائز ہے یا نہیں ؟ آیا وہاں گدا گر پائے جاتے ہیں یا نہیں؟ اگر اب نہیں ہیں تو پہلے گدا گر کہاں گئے ؟ پانچ ، اندھے، مفلوج وغیرہ لوگ جن کے کوئی رشتہ دار نہ ہوں ان کے گزارہ کا کیا طریق ہے؟ آیا حکومت نے ان کے لئے کوئی انتظام کیا ہے یا شہر کے لوگ اپنے طور پر ان کے لئے کوئی انتظام کرتے ہیں یا وہ لوگ خود جہاں سے ہو سکے اپنا گزارہ کرتے ہیں؟