زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 274 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 274

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 274 جلد دوم مدا ہن تو سمجھ سکتے ہیں مگر مومن نہیں سمجھ سکتے۔اگر یہ تبلیغ نہ کرتا تو لوگ اسے کمزور مومن سمجھتے۔مگر اس کے تبلیغ کرنے کی وجہ سے لوگ اسے کمزور مومن بھی نہیں سمجھیں گے اور وہ اس میں حق بجانب ہوں گے۔(4) مومن کی آنکھیں کھلی ہوتی ہیں۔مبلغ کا صرف یہ کام نہیں کہ وہ کسی کے ساتھ مسائل پر گفتگو کرے۔بلکہ مبلغ کا یہ کام بھی ہے کہ وہ وہاں کے سیاسی، تمدنی، اقتصادی، علمی اور اجتماعی حالات کو دیکھے اور ان سے صحیح نتیجہ نکالے۔کیونکہ تبلیغ دماغی ماحول کو مد نظر رکھ کر ہی مؤثر ہو سکتی ہے۔اور کسی قوم یا افراد کے دماغی ماحول کا علم اس قوم کے علمی ، اقتصادی، سیاسی اور اجتماعی تحریکات کے علم کے بغیر نہیں ہو سکتا۔(5) وہاں جا کر یہ کوشش کرنی چاہئے کہ دوسرے مبلغ کے آنے کے لئے راستہ کھلے۔خواہ کسی تاجر سے مل کر تجارتی کام کے لئے اجازت لی جائے یا کسی اور رنگ میں کوشش کی جائے۔بہر حال جس رنگ میں بھی ممکن ہو دوسرے مبلغ کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔(6) مختلف اقوام اور ان کی تاریخوں، ان کی تعداد ان کی قوت ، ان کے انفرادی اور اجتماعی حالات کے متعلق جلد سے جلد مرکز کو معلومات بہم پہنچائی جائیں۔(7) مختلف غیر حکومتوں کے سیاسی نفوذ اور سیاسی جدو جہد کے متعلق بھی محتاط الفاظ میں اور ان مخصوص علاقوں کے متعلق جن میں وہ اپنا نفوذ پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں خبر دیتے رہنا چاہئے۔(8) آپ کو وہاں تبلیغ کے علاوہ اس غرض کے لئے بھی بھجوایا جا رہا ہے کہ کمیونسٹ تحریک کے متعلق پوری پوری معلومات حاصل کریں اور مرکز کو بہم پہنچائیں۔ایران کے کس کس علاقے میں کمیونسٹ اپنا اثر پیدا کر رہے ہیں اور ان کی اس تحریک کے ایرانی لیڈر کون کون ہیں اور وہ اپنے خیالات کی اشاعت لٹریچر کے ذریعے کرتے ہیں یا زبانی ، کھلے بندوں کرتے ہیں یا مخفی طور پر۔بخارا وغیرہ سے آنے والے لوگوں سے مل کر یہ معلوم کریں کہ بخارا کے مسلمانوں کی مذہبی حالت موجودہ گورنمنٹ کے ماتحت کیسی ہے۔