زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 267

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 267 جلد دوم یہ امر یا درکھو کہ تعداد کی زیادتی بھی اپنے اندر بہت بڑی اہمیت رکھتی ہے اور قوموں کی ترقی کے ساتھ اس کا نہایت گہرا تعلق ہوتا ہے۔اس وقت ہماری جماعت کی تعداد کم ہے۔اگر ہم متمدن ممالک میں تبلیغ کر کے اپنی تعداد کو زیادہ کرنا چاہیں تو ہزاروں لاکھوں مبلغ بھیجوانے اور سالہا سال محنت کرنے کے بعد ان میں سے صرف ایک حصہ کو ہم اپنی کی طرف کھینچ سکتے ہیں۔لیکن اگر ہم اندھے نہیں ہیں، اگر ہم پاگل نہیں ہیں ، اگر ہم دنیا کی تاریخ سے بالکل ناواقف اور جاہل نہیں ہیں تو ہمیں اس حقیقت کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ تو میں کچھ عرصہ کے بعد اپنی طاقت کو کھو بیٹھتی ہیں۔حتی کہ محمد رسول اللہ نے کی امت نے بھی ابتدائی زمانہ کے بعد آہستہ آہستہ اپنی طاقت کھو دی۔موسی کی قوم نے بھی یہ طاقت کھو دی۔عیسی کی قوم نے بھی یہ طاقت کھو دی۔ابراہیم کی قوم نے بھی یہ طاقت کھودی اور نوح کی قوم نے بھی یہ طاقت کھو دی۔پس یقیناً اس قانون سے کوئی بھی منتقی نہیں ہو سکتا۔اگر ہم متمدن ممالک میں سینکڑوں سال تک تبلیغ کے لئے جدو جہد کرتے رہے تو اس عرصہ تک وہ اخلاص اور جوش جو آج ہماری جماعت کے دلوں میں پایا جاتا ہے ریت کے دریا میں خشک ہو جائے گا اور جماعت کا اپنی کامیابی کو حاصل کرنا نا ممکن ہو جائے گا۔جب تک ہم قریب ترین عرصہ میں پوری کوشش نہ کریں گے اُس وقت تک ہم اپنے مستقبل کو کبھی بھی روشن صورت میں نہیں دیکھ سکتے۔جس قسم کی متمدن دنیا میں ہم کو پیدا کیا گیا ہے اور جس قسم کے تعلیم یافتہ لوگوں سے ہمارا مقابلہ ہے اس لحاظ سے ہمارا کام اتنا مشکل ہے کہ آج تک دنیا میں کسی کو اتنا مشکل اور سخت ترین کام پیش نہیں آیا۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں جو لوگ تبلیغ کرنے کے لئے جاتے تھے وہ علوم میں ان لوگوں سے بہت اعلیٰ ہوتے تھے جنہیں تبلیغ کرتے تھے۔کیونکہ رسول کریم ﷺ نے فورا علم کے حصول کی طرف صحابہ کو متوجہ کر دیا تھا۔چھ سات تو مکہ میں ہی تعلیم یافتہ صحابی تھے اور مدینہ میں تو سارے لوگ پڑھے ہوئے تھے اس وجہ سے جب عربوں کی آوازیں اٹھتی تھیں لوگوں کے دل مرعوب ہو جاتے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ ہم ادنی ہیں اور عرب اعلیٰ۔ہم تعلیم میں پیچھے ہیں